آیت 22 { اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُکِبًّا عَلٰی وَجْہِہٖٓ اَہْدٰٓی اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ } ”تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل گھسٹ رہا ہے زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ جو سیدھا ہو کر چل رہا ہے ایک سیدھے راستے پر ؟“ اس آیت میں دو قسم کے انسانوں کے ”طرزِ زندگی“ کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔ ایک قسم کے انسان وہ ہیں جو انسان ہوتے ہوئے بھی حیوانی سطح پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جیسے ان کی حیوانی جبلت انہیں چلا رہی ہے بس اسی طرح وہ چلے جا رہے ہیں۔ بظاہر تو وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندیاں بھی کرتے ہیں ‘ معاشی دوڑ دھوپ میں بھی سرگرمِ عمل رہتے ہیں ‘ کھاتے پیتے بھی ہیں اور دوسری ضروریات بھی پوری کرتے ہیں ‘ لیکن یہ سب کچھ وہ اپنے جبلی داعیات کے تحت کرتے ہیں۔ جبلی داعیات کی تعمیل و تکمیل کے علاوہ ان کے سامنے زندگی کا کوئی اور مقصد ہے ہی نہیں۔ ان لوگوں کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص فاصلہ طے کرنے کے لیے چوپایوں کی طرح اوندھا ہو کر منہ کے بل خود کو گھسیٹ رہا ہو۔ ظاہر ہے ایسا شخص نہ تو راستہ دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی اسے اپنی منزل کی کچھ خبر ہوتی ہے۔ دوسری مثال اس شخص کی ہے جو سیدھے راستے پر انسانوں کی طرح سیدھا کھڑے ہو کر چل رہا ہے۔ اس مثال کے مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی منزل طے کر رکھی ہے۔ وہ طے شدہ منزل پر پہنچانے والے درست راستے کا تعین بھی کرچکے ہیں اور پوری یکسوئی کے ساتھ اس راستے پر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ ظاہر ہے دنیا میں ان لوگوں کی منزل اقامت دین ہے جبکہ آخرت کے حوالے سے وہ رضائے الٰہی کے حصول کے متمنی ہیں۔ آیت زیر مطالعہ میں جو فلسفہ بیان ہوا ہے اس کی وضاحت قبل ازیں سورة الحج کی آیت 73 کے تحت بھی کی جاچکی ہے۔ اس فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز انسان کو حیوانات سے ممیز و ممتاز کرتی ہے وہ اس کا نظریہ اور اس کی سوچ ہے۔ گویا انسان حقیقت میں وہی ہے جس کا کوئی نظریہ ہو ‘ کوئی آئیڈیل اور کوئی نصب العین ہو۔ جو انسان کسی نظریے اور نصب العین کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان { اُولٰٓـئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّط } الاعراف : 179 کے مصداق ہیں ‘ یعنی وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ ظاہر ہے جانوروں کو تو شعور کی اس سطح پر پیدا ہی نہیں کیا گیا کہ وہ اپنی زندگی کا کوئی نصب العین متعین کرسکیں۔ ان کی تخلیق کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ انسان کسی نہ کسی طور پر انہیں اپنے کام میں لائیں اور بس۔ سورة الحج کی مذکورہ آیت آیت 73 میں بتوں اور ان کے پجاریوں کی تمثیل کے پردے میں یہ حقیقت بھی واضح کردی گئی ہے کہ جس انسان کا نظریہ یا آئیڈیل بلند ہوگا اس کی شخصیت بھی بلند ہوگی ‘ جبکہ گھٹیا آئیڈیل کے پیچھے بھاگنے والے انسان کی سوچ اور شخصیت بھی گھٹیا ہو کر رہ جائے گی۔
QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats.
Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>,
<i>, etc.
Note:
Tafsir content may span multiple ayahs. QUL exports both the tafsir text and the ayahs it applies to.
Example JSON Format:
{
"2:3": {
"text": "tafisr text.",
"ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
},
"2:4": "2:3"
}
"ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means
3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
text: the tafsir content (can include HTML)ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies toayah_key where the tafsir text can be found.
ayah_key: the ayah for which this record applies.group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.