Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qari'ah — Ayah 8

101:8
وَأَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ ٨
اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے1
Footnotes
  • [1] اصل میں لفظ مَوَازِیْن استعمال ہوا ہے جو موزون کی جمع بھی ہو سکتا ہے اور میزان کی جمع بھی۔ اگر اس کو موزون کی جمع قرار دیا جائے تو موازین  سے مراد وہ اعمال ہوں گے جن کا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی وزن ہو، جو اس کے ہاں کسی قدر کے مستحق ہوں۔ اور اگر اسے میزان کی جمع قرار دیا جائے تو موازین سے مراد ترازو کے پلڑے ہوں گے۔ پہلی صورت میں مَوازین کے بھاری اور ہلکے ہونے کا مطلب نیک اعمال کا برے اعمال کے مقابلے میں بھاری  یا ہلکا ہونا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں صرف نیکیاں ہی وزنی اور قابلِ قدر ہیں۔ دوسری صورت میں موازین کے بھاری ہونے کا مطلب  اللہ جلّ شانہ، کی میزانِ عدل میں نیکیوں کے پلڑے کا برائیوں کی بہ نسبت زیادہ بھاری ہونا ہے، اور اُن کا ہلکا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بھلائیوں کا پلڑا برائیوں  کے پلڑے کی بہ نسبت ہلکا ہو۔  اس کے علاوہ عربی زبان کے محاورے میں میزان کا لفظ وزن کے معنی مییں بھی استعمال ہوتا ہے ، اور اِس معنی کے لحاظ سے وزن کے بھاری اور ہلکا ہونے سے مراد  بھلائیوں کا وزن بھاری یا ہلکا ہونا ہے۔ بہر حال موازین کو خواہ موزون کے معنی میں لیا جائے، یا میزان کے معنی میں، یا وزن کے معنی میں، مدّعا ایک ہی رہتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں فیصلہ اِس بنیا د پر ہو گا کہ آدمی اعمال  کی جو پونجی لے کر آیا ہے وہ وزنی ہے ، یا بے وزن، یا اس کی بھلائیوں کا وزن اُس کی برائیوں کے وزن سے زیادہ ہے یا کم۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے کہ جن کو نگاہ میں رکھا جائے تو اس کا مطلب پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ سورۂ اَعراف میں ہے ”اور وزن اُس روز حق ہو گا، پھر جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی  فلاح پائیں گے، اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی اپنے آپ کو خسارے  میں مبتلا کرنے والے ہوں گے “(آیات 9-8)۔ سورۂ کہف میں ارشاد ہوا” اے نبی اِن لوگوں سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و  نا مراد  لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کی آیا ت کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے ان کے سارے  اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے“(آیات 1۰5-1۰4)۔ سورۂ انبیاء میں فرمایا”قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے، پھر کسی شخص پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہو گا۔ جس کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہو گا وہ ہم لے آئیں گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں“(آیت47)۔ اِن آیات سے معلوم ہوا کہ کفر اور حق سے انکار بجائے خود اتنی بُرائی ہے کہ وہ برائیوں کے پلڑے کو لازمًا جھُکادے گی اور کافر کی کوئی نیکی ایسی  نہ ہو گی کہ بھلائیوں کے پلڑے میں اُس کا کوئی وزن ہو جس سے اُس کی نیکی کا پلڑا جُھک سکے۔ البتہ مومن کے پلڑے میں ایمان کا وزن بھی ہوگا اور اس کے ساتھ اُن نیکیوں کا وزن بھی جو اس نے دنیا میں  کیں ۔ دوسری طرف اُس کی جو بَدی بھی ہو گی وہ بدی کے پلڑے میں رکھ دی جائے گی۔ پھر دیکھا جائے گا کہ آیا نیکی کا پلڑا جُھکا ہوا ہے یا بدی کا۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]