Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah At-Takathur — Ayah 8

102:8
ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ ٨
پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔1
Footnotes
  • [1] اس فقرے میں  ”پھر“ کا لفظ اس معنی میں نہیں ہے کہ دوزخ میں ڈالے جانے کے بعد جواب طلبی کی جائے گی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر یہ خبر بھی ہم تمہیں دیے دیتے ہیں کہ تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں سوا ل کیا جائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سوال عدالتِ الہٰی میں حساب لینے کے وقت ہو گا۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بندوں کو دی ہیں ان کے بارے میں جواب دہی مومن و کافر سب ہی کو کرنی ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ جن لوگوں نے کُفر انِ نعمت نہیں کیا اور شکر گزار بن کر رہے  وہ اس محازبہ میں کامیاب رہیں گے ، اور جن لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا حق ادا نہیں کیا اور اپنے قول یا عمل سے ، یا دونوں سے ان کی ناشکری کی وہ اس میں ناکام ہوں گے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم نے آپ کو ترو تازہ کھجور یں کھلائیں اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ اس پر حضور ؐ نے فرمایا” یہ اُن نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا۔“(مُسند احمد، نَسائی، ابن جَرِیر، ابن المُنذیر، ابن مَرْدُوْیَہ، عبد بن حُمَید، بَیْہَقِی فی الشعب)۔ حضرت ابو ہریرہ  کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر سے کہا کہ چلو ابو الہَیشَم بن الَّیہان انصاری کے ہاں چلیں۔ چنانچہ ان کو لے کر آپ  ابن التیہان کے نخلستان میں تشریف لے گئے۔ انہوں نے لا کر کھجوروں کا ایک خوشہ رکھ دیا۔ حضور ؐ نے فرمایا تم خود کیوں نہ کھجوریں توڑ لائے؟ انہوں نے عرض کیا، میں چاہتا تھا کہ آپ حضرات خود چھانٹ چھانٹ کر کھجوریں تناول فرمائیں۔ چنانچہ انہوں نے کھجوریں کھائیں اور ٹھنڈا پانی پیا۔ فارغ ہونے کے بعد حضور ؐ نے فرمایا”اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں تمہیں قیامت کے روز جواب دہی کر نی ہوگی، یہ ٹھنڈا  سایہ، یہ ٹھنڈی کھجوریں، یہ ٹھنڈا پانی“(اِس قصے کو مختلف طریقوں سے مسلم ،ابن ماجہ، ابو داؤد، تِرْمذِی، نَسائی، ابن جریر اور ابو یَعلیٰ وغیرہم نے حضرت ابوہریرہ سے نقل کیا ہے جن میں سے بعض میں اُن انصاری بزرگ کا نام لیا گیا ہے اور بعض میں صرف انصار میں سے ایک شخص کہا گیا ہے۔ اس قصّے کو مختلف طریقوں سے  متعدد تفصیلات کے ساتھ ابن ابی حاتم نے حضرت عمر سے، اور امام احمد نے ابو عسیب ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سے نقل کیا ہے۔ ابن حِبّان اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک روایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قریب قریب اسی طرح کا واقعہ حضرت ابو ایوب انصاری کے ہاں پیش آیا تھا)۔ اِن احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سوال صرف کفّار ہی سے نہیں ، مومنین صالحین سے بھی ہو گا۔ رہیں خدا کی وہ نعمتیں جو اُس نے انسان کو عطا کی ہیں ، تو وہ لامحدود ہیں، اُن کا کوئی شمار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ بہت سی نعمتیں تو ایسی ہیں کہ انسان کو اُن کی خبر بھی نہیں ہے ۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ وَاِنْ تَعُدُّوْ ا نَعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوْ ھَا،”اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گِنو تو تم اُن کا پورا شمار نہیں کر سکتے“(ابراہیم 34)۔ اِن نعمتوں میں سے بے حد و حساب نعمتیں تو  وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے براہِ رااست انسان کو عطا کی ہیں، اور  بکثرت نعمتیں وہ ہیں جو  انسان  کو اُس کے اپنے کسب کے ذریعہ سے دی جاتی ہیں ۔ انسان کے کسب سے حاصل ہونے والی نعمتوں کے متعلق اُس کو جواب دہی کرنی پڑے گی کہ اس نے ان کو کن طریقوں سے حاصل کیا اور کن راستوں پر خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی براہِ راست عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں اُسے حساب دینا ہو گا کہ اُن کو اُس نے کس طرح استعمال کیا ۔ اور مجموعی طور پر تمام نعمتوں کے متعلق اُس کو بتانا پڑے گا کہ آیا اُس نے اِس امر کا اعتراف کیا تھا کہ یہ نعمتیں اللہ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر دل ، زبان اور عمل سے اُس کا شکر ادا کیا تھا؟ یا یہ سمجھا تھا کہ  یہ سب کچھ اُسے اتفاقًا  مل گیا ہے؟  یا یہ خیال کیا تھا کہ بہت سے خدا ان کے عطا کرنے والے ہیں؟ یا یہ عقیدہ رکھا تھا کہ یہ ہیں تو خدا ہی کی نعمتیں مگر ان کے عطا کرنے میں بہت سی دوسری ہستیوں کا بھی دخل ہے اور اِس بنا پر اُنہیں معبود ٹھیرا لیا تھا اور اُنہی کے شکریے  ادا کیے تھے؟  

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]