Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Ma'un — Ayah 2

107:2
فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ ٢
وہی تو ہے1 جو یتیم کو دھکّے دیتا ہے،2
Footnotes
  • [1] اصل میں یَدُعُّ الْیَتِیْمَ کا فقرہ استعملا ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ یتیم کا حق مار کھا تا ہے اور اس کے  باپ کو چھوڑی ہوئی میراث سے بے دخل کر کے اسے دھکے مار کر نکال دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ یتیم اگر اس سے مدد مانگنے آتا ہے تو رحم کھانے کے بجائے اسے دَھتکار دیتا ہے اور پھر بھی اگر وہ اپنی پریشان حالی کی بنا پر رحم کی امید لیے ہوئے کھڑا رہے تو اسے دھکّے دے کر دفع کر دیتا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ یتیم پر ظلم ڈھاتا ہے ، مثلاً اس کے گھر میں اگر اس کا اپنا ہی کوئی رشتہ دار یتیم ہو تو اس کے نصیب میں سارے گھر کی خدمتگاری کرنے اور بات بات پر جھڑکیاں  اور ٹھوکریں کھانے کے سوا کچھ نہیں  ہوتا۔ علاوہ بریں اِس فقرے میں یہ معنی بھی پوشیدہ ہیں کہ اُس شخص سے کبھی کبھار یہ ظالمانہ حرکت سرزد  نہیں ہوجاتی، بلکہ اس کی عادت اور اس کا مستقل رویّہ یہی ہے۔ اُسے یہ احساس ہی نہیں  ہے کہ یہ کوئی بُرا کام ہے جو وہ کر رہا ہے۔ بلکہ وہ بڑے اطمینان کے ساتھ یہ روش اختیار کیے رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یتیم ایک بےبس اور بے یار و مددگار مخلوق ہے ، اس لیے کوئی ہرج نہیں اگر اس کا حق مار کھایا جائے، یا اسے ظلم و ستم کا تختہ ٔ مشق بنا کر رکھا جائے ، یا وہ مدد مانگنے کے لیے آئے تو اُسے دَھتکار دیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک بڑا عجیب واقعہ قاضی ابو الحسن لماوَرْدِی نے اپنی کتاب اَعلامُ النُّبُوَّۃ میں لکھا ہے۔ ابو جہل ایک یتیم کا وصی تھا۔ وہ بچہ ایک روز اِس حالت میں اُس کے پاس آیا کہ اس کے بدن پر کپڑے تک نہ تھے۔ اوراس نے التجا کی کہ اُس کے باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں سے وہ اُسے کچھ دیدے۔ مگر اس ظالم نے اس کی طرف توجّہ تک نہ کی اور وہ کھڑے کھڑے آخر کا ر مایوس ہو کر پلٹ گیا۔ قریش کے سرداروں نے ازراہِ شرارت اس سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جا کر شکایت کر،  وہ ابو جہل سے سفارش کر کے تجھے تیرا مال دلوا دیں گے۔ بچہ بے چارہ ناواقف تھا کہ ابوجہل کا حضور ؐ سے کیا تعلق ہے اور یہ بدبخت اُسے کس غرض کے لیے یہ مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ سیدھا حضور ؐ کے پاس پہنچا اور اپنا حال آپ ؐ سے بیان کیا۔ آپ ؐ اُسی وقت اُٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر اپنے بدترین دشمن ابو جہل کے ہاں تشریف لے گئے ۔ آپؐ کو دیکھ کر اُس نے آپ ؐ کا استقبال کیا اور جب آپؐ  نے فرمایا کہ اِس بچے کا حق اِسے دے دو۔ تو وہ فوراً مان گیا اور اس کا مال لا کر اسے دے دیا۔ قریش کے سردار تاک میں لگے ہوئے تھے کہ دیکھیں ، اِن دونوں کے درمیان کیا معاملہ پیش آتا ہے ۔ وہ کسی مزے دار جھڑپ کی امید کر رہے تھے۔ مگر جب انہوں نے یہ معاملہ دیکھا تو حیران  ہو کر ابو جہل کے پاس آئے اور اسے طعنہ دیا کہ تم بھی اپنا دین چھوڑ گئے ۔ اس نے کہا خدا کی قسم ، میں نے اپنا دین نہیں چھوڑا، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دائیں اور بائیں ایک ایک حربہ ہے جو میرے اندر گھس جائے گا اگر میں نے ذرا بھی ان کی مرضی کے خلاف حرکت کی۔ اِس واقعہ سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں عرب کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور معزز قبیلے تک کے بڑے بڑے سرداروں کا یتیموں اور دوسرے بے یار و مددگار لوگوں کے ساتھ کیا سلوک تھا ، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتاہ ے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس بلند اخلاق کے مالک تھے اور آپ کے اِس اخلاق کا آپ کے بدترین دشمنوں تک پر کیا رعب تھا۔ اِسی قِسم کا ایک واقعہ ہم اس سے پہلے تفہیم القرآن ، جلد سوم ،صفحہ 14۶ پر نقل کر چکے ہیں جو حضور ؐ کے اُس زبردست اخلاقی رعب پر دلالت کرتا ہے جس کی وجہ سے کفارِ قریش آپ کو جادوگر کہتے تھے۔
  • [2] اصل میں فَذٰلِکَ الَّذِی فرمایا گیا ہے۔ اس فقرے میں ف ایک پورے جملے کا مفہوم ادا کرتا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ”اگر تم نہیں جانتے تو تمہیں معلوم ہو کہ وہی تو ہے جو“ یا پھر یہ اِس  معنی میں ہے کہ  ”اپنے اِس انکار ِ آخرت کی وجہ سے وہ ایسا شخص ہے جو“۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]