Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Masad — Ayah 4

111:4
وَٱمۡرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلۡحَطَبِ ٤
اور (اُس کے ساتھ) اُس کی جورُو بھی،1 لگائی بُجھائی کرنے والی،2
Footnotes
  • [1] اصل الفاظ ہیں حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ ۔ جن کا لفظی ترجمہ  ہے ” لکڑیاں ڈھونے والی“۔ مفسّرین نے اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ، ابن زیدؓ، ضَحّاک اور ربیع بن انس کہتے ہیں کہ وہ راتوں کو خاردار درختوں کی ٹہنیاں لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دروازے پر ڈال دیتی تھی ، اس لیے اس کو لکڑیاں ڈھونے  والی کہا گیا ہے۔ قَتادہ ، عِکْرِ مَہ، حسن بصری، مجاہد اور سُفیان ثَوری کہتے ہیں کہ وہ لوگوں میں فساد ڈلوانے کے لیے چُغلیاں کھاتی پھرتی تھی، اس لیے اسے عربی محاورے  کے مطابق لکڑیاں ڈھونے والی کہا گیا، کیونکہ عرب ایسے شخص کو جو اِدھر کی بات اُدھر لگا کر فساد کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتا ہو، لکڑیاں ڈھونے والا کہتے ہیں۔ اِس محاورے کے لحاظ سے حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ کے معنی ٹھیک ٹھیک وہی ہیں جو اردو میں ”بی جمالو“ کے معنی ہیں۔ سعید بن جُبَیر کہتے ہیں کہ جو شخص گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہا ہو اُس کے متعلق  عربی زبان میں بطور محاورہ کہا جاتا ہے فُلَانٌ یَّحْطَتِبُ عَلیٰ ظَھْرِ ہ۔ (فلاں شخص اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لاد رہا ہے)۔ پس حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ کے معنی ہیں گناہوں کا بوجھ ڈھونے والی۔ ایک اور مطلب مفسّرین نے اس کا یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ آخرت میں اُس کا حال ہوگا، یعنی وہ لکڑیاں لا لا کر اُس آگ میں ڈالے گی جس میں ابو لہب جل رہا ہو گا۔
  • [2] اس عورت کا نام اَرْویٰ تھا اور اُمِّ جَمِیل اِس کی کنیت تھی۔ یہ ابو سُفیان کی بہت تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عداوت میں اپنے شوہر ابو لہب سے کسی طرح کم نہ تھی۔ حضرت ابوبکر ؓ کی صاحبزادی حضرت اَسماءؓ کا بیان ہے کہ جب یہ سورت ناز  ل ہوئی اور امِّ جمیل نے اِس کو سنا تو وہ بِپھری ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلا ش میں نکلی۔ اُس کے ہاتھ میں مُٹھی بھر پتھر تھے او ر وہ حضورؐ کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جاتی تھی۔ حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ حضورؐ تشریف فرما تھے ۔ حضر ت ابو بکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ، یہ آرہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر یہ کوئی بیہودگی کر گے گی۔ حضورؐ نے فرمایا یہ مجھ کو نہیں دیکھ سکے گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ کے موجود ہونے کے باوجود وہ آپ کو نہیں دیکھ سکی اور اس نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا کہ میں نے سنا ہے تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے کہا، اِس گھر کے ربّ کی قسم اُنہوں نے تو تمہاری کوئی ہجو نہیں کی۔ اس پر وہ واپس چلی گئی (ابن ابی حاتم۔ سیرۃ ابن ہشام۔ بَزّار نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے بھی اِسی سے ملتا جُلتا واقعہ نقل کیا ہے)۔ حضرت ابو بکر ؓ کے اِس جواب کا مطلب یہ تھا کہ ہجو ت اللہ تعالیٰ نے کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی۔