یعنی یہ بات اللہ ہی جانتا ہے کہ کون فی الواقع ایک اعلیٰ درجہ کا انسان ہے اور کون اوصاف کے لحاظ سے ادنیٰ درجے کا ہے۔ لوگوں نے بطور خود اعلیٰ اور ادنیٰ کے جو معیار بنا رکھے ہیں یہ اللہ ہاں چلنے والے نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جس کو دنیا میں بہت بلند مرتبے کا آدمی سمجھا گیا ہو وہ اللہ کے آخری فیصلے میں کم ترین خلائق قرار پائے، اور ہو سکتا ہے کہ جو یہاں بہت حقیر سمجھا گیا ہو، وہ وہاں بڑا اونچا مرتبہ پائے۔ اصل اہمیت دنیا کی عزت و ذلت کی نہیں بلکہ اس ذلت و عزت کی ہے جو خدا کے ہاں کسی کو نصیب ہو۔ اس لیے انسان کو ساری فکر اس امر کی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اندر وہ حقیقی اوصاف پیدا کرے جو اسے اللہ کی نگاہ میں عزت کے لائق بنا سکتے ہوں۔
اس سے مراد تمام بدوی نہیں ہیں بلکہ یہاں ذکر چند خاص بدوی گروہوں کا ہو راہ ہے جو اسلام میں بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہو گئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ بھی رہیں گے اور اسلامی فتوحات کے فوائد سے متمتع بھی ہوں گے۔ یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے ایمان نہیں لائے تھے، محض زبانی اقرار ایمان کر کے انہوں نے مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرا لیا تھا۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت فاش ہو جاتا تھا جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آ کر طرح طرح کے مطالبہ کرتے تھے، اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کر کے آپ پر بڑا احسان کیا ہے۔ روایات میں متعدد قبائلی گروہوں کے اس رویے کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً مُزینہ، جہینہ، اسلم، اشجع، غِفار وغیرہ۔ خاص طور پر بنی اَسد بن خزیمہ کے متعلق ابن عباس اور سعید بن جُبیر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ خشک سالی کے زمانہ میں وہ مدینہ آئے اور مالی مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار انہوں نے رسول اللہ صلی علیہ و سلم سے کہا کہ ’’ ہم بغیر لڑے بھڑے مسلمان ہوئے ہیں، ہم نے آپ سے اس طرح جنگ نہیں کی جس طرح فلاں اور فلاں قبیلوں نے جنگ کی ہے ‘‘ اس سے ان کا صاف مطلب یہ تھا کہ اللہ کے رسول سے جنگ نہ کرنا اور اسلام قبول کر لینا ان کا ایک احسان ہے جس کا معاوضہ انہیں رسول اور اہل ایمان سے ملنا چاہیے۔ اطراف مدینہ کے بدوی گروہوں کا یہی وہ طرز عمل ہے جس پر ان آیات میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس تبصرے کے ساتھ سورۃ توبہ آیات 9۰ تا 11۰ ، اور سورۃ فتح آیات 11 تا 17 کو ملا کر پڑھا جائے تو بات زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔
اصل میں قُوْلُوْآ اَسْلَمْنَا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کو دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’ کہو ہم مسلمان ہو گئے ہیں‘‘ ان الفاظ سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکال لیا ہے کہ قرآن مجید کی زبان میں ’’مومن ‘‘اور ’’مسلم ‘‘دو متقابل اصطلاحیں ہیں، مومن وہ ہے جو سچے دل سے ایمان لایا ہو اور مسلم وہ ہے جس نے ایمان کے بغیر محض ظاہر میں اسلام قبول کر لیا ہو۔ لیکن درحقیقت یہ خیال بالکل غلط ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس جگہ ایمان کا لفظ قلبی تصدیق کے لیے اور اسلام کا لفظ محض ظاہری اطاعت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مگر یہ سمجھ لینا صحیح نہیں ہے کہ یہ قرآن مجید کی دو مستقل اور باہم متقابل اصطلاحیں ہیں۔ قرآن کی جن آیات میں اسلام اور مسلم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان تتبعُّ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں ’’ اسلام‘‘ اس دین حق کا نام ہے جو اللہ نے نوع انسانی کے لیے نازل کیا ہے، اس کے مفہوم میں ایمان اور اطاعت امر دونوں شامل ہیں، اور ’’مسلم‘‘ وہ ہے جو سچے دل سے مانے اور عملاً اطاعت کرے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں:
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاَسْلَامُ (آل عمران 19 )
"یقیناً اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔"
وَمَن یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْناً فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ۔ (آل عمران۔85)
"اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے اس کا وہ دین ہر گز قبول نہ کیا جائے گا۔ "
وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً (المائدہ۔3)
"اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا ہے۔"
فَمَنْ یُّرِدِ اللہُ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ۔ (الانعام۔ 125)
"اللہ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ "
ظاہر ہے کہ ان آیات میں ’’ اسلام‘‘ سے مراد اطاعت بلا ایمان نہیں ہے۔ پھر دیکھیے جگہ جگہ اس مضمون کی آیات آتی ہیں:
قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلِ مَنْ اَسْلَمَ۔ (الانعام۔ 14)
"اے نبی کہو مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والا میں ہوں۔ "
فَاِنْ اَسْلَمُو افَقَدِ اھْتَدَوْا (آل عمران۔20)
"پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو انہوں نے ہدایت پالی۔"
یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا (المائدہ۔ 44)
"تمام انبیاء جو اسلام لائے تھے تو رات کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔"
کیا یہاں اور اس طرح کے بیسیوں دوسرے مقامات پر اسلام قبول کرنے یا اسلام لانے کا مطلب ایمان کے بغیر اطاعت اختیار کر لینا ہے؟ اسی طرح ’’ مسلم‘‘ کا لفظ بار بار جس معنی میں استعمال ہوا ہے اس کے لیے نمونے کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں۔
یٰٓاَیّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُو اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَا تِہٖ وِلَا تَمُوْ تُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمّوْنَ۔ (آل عمرآن۔102)
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں تم مسلم ہو۔ "
ھُوَسَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذا (الحج۔ 78 )
"اس نے تمہارا نام پہلے بھی مسلم رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی۔ "
مَاکَانَ اِبْرَاھِیْمْ یَھُودِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً۔(آل عمران۔ 67)
"ابراہیمؑ نہ یہودی تھا نصرانی، بلکہ وہ یک سُو مسلم تھا۔ "
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ۔ (البقرہ۔ 128)
(تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم و اسماعیل کی دعا) "اے ہمارے رب، اور ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی امت پیدا کر جو تیری مُسلم ہو۔"
یٰبَنِیَّ اِنَّ اللہَ اصْطَفیٰ لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (البقرہ۔132)
(حضرت یعقوبؑ کی وصیت اپنی اولاد کو) "اے میرے بچو، اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے پس تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔"
ان آیات کو پڑھ کر آخر کون یہ خیال کر سکتا ہے کہ ان میں مسلم سے مراد وہ شخص ہے جو دل سے نہ مانے، بس ظاہری طور پر اسلام قبول کر لے؟ اس لیے یہ دعویٰ کرنا قطعی غلط ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں اسلام سے مراد اطاعت بلا ایمان ہے، اور مسلم قرآن کی زبان میں محض بہ ظاہر اسلام قبول کر لینے والے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح یہ دعویٰ کرنا بھی غلط ہے کہ ایمان اور مومن کے الفاظ قرآن مجید میں لازماً سچے دل سے ماننے ہی کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ بلا شبہ اکثر مقامات پر یہ الفاظ اسی مفہوم کے لیے آئے ہیں، لیکن بکثرت مقامات ایسے بھی ہیں جہاں یہ الفاظ ظاہری اقرار ایمان کے لیے بھی استعمال کیے گئے ہیں، اور یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔ کہہ کر ان سب لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے جو زبانی اقرار کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوئے ہوں، قطع نظر اس سے کہ وہ سچے مومن ہوں، یا ضعیف الایمان، یا محض منافق۔ اس کی بہت سی مثالوں میں سے صرف چند کے لیے ملاحظہ ہو آل عمران، آیت 156۔ النساء،126۔ المائدہ، 54۔ الانفال، 20۔27۔التوبہ، 38 الحدید، 28۔ الصّف، 2۔