Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ar-Rahman — Ayah 13

55:13
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ١٣
پس اے جِنّ وانس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں1 کو جھٹلاؤ گے؟2
Footnotes
  • [1] جھٹلانے سے مراد وہ متعدد رویے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی قدرت کے کرشموں اور اس کی صفات ِ حمیدہ کے معاملہ میں لوگ اختیار کرتے ہیں، مثلاً : بعض لوگ سرے سے یہی نہیں مانتے کہ ان ساری چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ محض مادے کے اتفاقی ہیجان کا نتیجہ ہے، یا ایک حادثہ ہے جس میں کسی حکمت اور صناعی کا کوئی دخل نہیں۔ یہ کھلی کھلی تکذیب ہے۔ بعض دوسرے لوگ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ان چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے مگر اس کے ساتھ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے یں، اس کی نعمتوں کا شکریہ دوسروں کو ادا کرتے ہیں، اور اس کا رزق کھا کر دوسروں کے گن گاتے ہیں۔ یہ تکذیب کی ایک اور شکل ہے۔ ایک آدمی جب تسلیم کرے کہ آپ نے اس پر فلاں احسان کیا ہے اور پھر اسی وقت آپ کے سامنے کسی ایسے شخص کا شکریہ ادا کرنے لگے جس نے در حقیقت اس پر وہ احسان کیا نہیں کیا ہے تو آپ خود کہہ دیں گے کہ اس نے بدترین احسان فراموشی کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ اس کی یہ حرکت اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ وہ آپ کو نہیں بلکہ اس شخص کو اپنا محسن مان رہا ہے جس کا وہ شکریہ ادا کر رہا ہے۔ کچھ اور لوگ ہیں جو ساری چیزوں کا خالق اور تمام نعمتوں کا دینے والا  اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں، مگر اس بات کو نہیں مانتے کہ انہیں اپنے خالق و پروردگار کے احکام کی اطاعت اور اس کی ہدایات کی پیروی کرنی چاہئے۔ یہ احسان فراموشی اور انکار نعمت کی یاک اور صورت ہے، کیونکہ جو شخص یہ حرکت کرتا ہے وہ نعمت کو ماننے کے باوجود نعمت دینے والے کے حق کو جھٹلاتا ہے،۔ کچھ اور لوگ زبان سے نہ نعمت کا انکار کرتے ہیں نہ نعمت دینے والے کے حق کو جھٹلاتے ہیں، مگر عملاً ان کی زندگی اور ایک منکر و مکذب کی زندگی میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں ہوتا۔ یہ تکذیب بالقول نہیں بلکہ تکذیب بالفعل ہے۔
  • [2] اصل میں لفظ آلاء استعمال ہوا ہے جسے آگے کی آیتوں میں بار بار دہرایا گیا ہے اور ہم نے مختلف مقامات پر اس کا مفہوم مختلف الفاظ میں ادا کیا ہے۔ اس لیے آغاز ہی میں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس لفظ میں معنی کی کتنی وسعت ہے اور اس میں کیا کیا مفہومات شامل ہیں۔ آلاء کے معنی اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالعموم "نعمتوں " کے بیان کیے ہیں۔ تمام مترجمین نے بھی یہی اس لفظ کا ترجمہ کیا ہے۔ اور یہی معنی ابن عباس، قتادہ اور حسن بصری سے منقول ہیں۔ سب سے بڑی دلیل اس معنی کے صحیح ہونے کی یہ ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جنوں کے اس قول کو نقل فرمایا ہے کہ وہ اس آیت کو سن کر بار بار  لابشی ء من نعمک ربنانکذب کہتے تھے۔ لہذا زمانۂ حال کے بعض محققین کی اس رائے سے ہمیں اتاق نہیں ہے کہ آلاء نعمتوں کے معنی میں سرے سے استعمال ہی نہیں ہوتا۔ دوسرے معنی اس لفظ کے قدرت اور عجائب قدرت یا کمالاتِ قدرت ہیں۔ ابن جریر طبری نے ابن زید کا قول نقل کیا ہے کہ فبای الاء ربکما کے معنی ہیں بای قدرۃ اللہ۔ ابن جریر نے خود بھی آیات 37۔38 کی تفسیر میں آلاء کو قدرت کے معنی میں لیا ہے۔ امام رازی نے بھی آیات 14۔15۔16 کی تفسیر میں لکھا ہے۔"ان آیات بیان نعمت کے لیے نہیں بلکہ بیان قدرت کے لیے ہیں۔ اور آیات 22۔23 کی تفسیر میں وہ فرماتے ہیں "یہ اللہ تعالیٰ کے عجائب قدرت کے بیان میں ہے نہ کہ نعمتوں کے بیان میں۔" اس کے تیسرے معنی ہیں خوبیاں،اوصافِ حمیدہ اور کمالات و فضائل۔ ا معنی کو اہل لغت اور تفسیر نے بیان نہیں کیا ہے، مگر اشعار ِ عرب میں یہ لفظ کثرت سے اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ نابغہ کہتا ہے : ھم الملوک وابنء الملوک لھم            فضل علی الناس فی الالاء والنعم وہ بادشاہ اور شاہزادے ہیں ان کو     لوگوں پر اپنی خوبیوں ور نعمتوں میں فضیلت حاصل ہے مہلہل اپنے بھائی کلیب کے مرثیہ میں کہتا ہے : الحزم والعزم کانامن طبائعہ    ماکل اٰلائہ یا قوم احصیھا حزم اور عزم اس کے اوصاف میں سے تھے۔  لوگوں میں اس کی ساری خوبیاں  شمار نہیں کر رہا ہوں فضالہ بن زید المعدو انی غریبی کی برائیاں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ غریب اچھا کام بھی کرے تو برا بنتا ہے اور وتحمداٰلاء البخیل المدرھم                 مالدار بخیل کے کمالات کی تعریف کی جاتی ہے اجدع ہمدانی اپنے گھوڑے کمیت کی تعریف میں کہتا ہے ورضیت اٰلاء الکمیت فمن یبع   فرسا فلیس جوادنابمباع مجھے کُمیت کے عمدہ اوصاف پسند ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی گھوڑے بیچتا ہے بیچے، ہمارا گھوڑا بکنے والا نہیں ہے۔ حماسہ کا ایک شاعر جس کا نام ابو تمام نے نہیں لیا ہے، اپنے ممدوح ولید بن ادھم کے اقتدار کا مرثیہ کہتا ہے : اذا ما امرو اثنی بالاء میت     فلایبعد اللہ الولید بن ادھما جب بھی کوئی شخص کسی مرنے والے کی خوبیاں بیان کرے تو خدا نہ کرے کہ ولید بن ادھم اس موقع پر فراموش ہو۔ فماکان مفراحا اذا الخیر مسہ    ولاکان منانا اذاھوا نعما اس پر اچھے حالات آتے تو پھولتا نہ تھا    اور کسی پر احسان کرتا تو جتاتا نہ تھا طرفہ ایک شخص کی تعریف میں کہتا ہے کامل یجمع اٰلاء الفتیٰ    نبہ سید سادات خضم وہ کامل اور جوانمردی کے اوصاف کا جامع ہے۔ شریف ہے، سرداروں کا سردار، دریا دل ان شواہد و نظائر کو نگاہ میں رکھ کر ہم نے لفظ آلاء کو اس کے وسیع معنی میں لیا ہے اور ہر جگہ موقع و محل کے لحاظ سے اسکے جو معنی مناسب تر نظر آئے ہیں وہی ترجمے میں درج کر دیے ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر ایک ہی جگہ آلاء کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں، اور ترجمے کی مجبوریوں سے ہم کو اس کے ایک ہی معنی اختیار کرنے پڑے ہیں، کیونکہ اردو زبان میں کوئی لفظ اتنا جامع نہیں ہے کہ ان سارے مفہومات کو بیک وقت ادا کر سکے۔  مثلاً اس آیت میں زمین کی تخلیق اور اس میں مخلوقات کی رزق سانی کے بہترین انتظامات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے رب کے کن کن "آلاء" کو جھٹلاؤ گے۔ اس موقع پر آلاء صرف نعمتوں کے معنی ہی میں نہیں ہے، بلکہ اللہ جل شانہ کی قدرت کے کمالات اور اس کی صفات حمیدہ کے معنی میں بھی ہے۔ یہ اس کی قدرت کا کمال ے کہ اس نے اس کرۂ خاکی کو اس عجیب طریقے سے بنایا کہ اس میں بے شمار اقسام کی زندہ مخلوقات رہتی ہیں اور طرح طرح کے پھل اور غلے اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہ اس کی صفات حمیدہ ہی ہیں کہ اس نے ان مخلوقات کو پیدا کرنے کے سات ساتھ یہاں ان کی پرورش اور رزق رسانی کا بھی انتظام کیا، اور انتظام بھی اس شان کا کہ ان کی خوراک میں نری غذائیت ہی نہیں ہے بلکہ لذت ِ کام و دہن اور  ذوق فطرت کی بھی ان گنت  رعایتیں ہیں۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی کاریگری کے صرف ایک کمال کی طرف بطور نمونہ اشارہ کیا گیا ہے کہ کھجور کے درختوں  میں پھل کس طرح غلافوں میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے۔ اس ایک مال کو نگاہ میں رکھ کر ذرا دیکھیے کہ کیلے، انار، سنترے، ناریل اور دوسرے پھلوں کے پیکنگ میں آرٹ کے کیسے کیسے کمالات دکھائے گیے ہیں، اور یہ طرح طرح  کے غلے اور دالیں اور حبوب، جو ہم بے فکر کے ساتھ پکا پکا کر کھاتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو کیسی کیسی نفیس بالوں اور خوشوں کی شکل میں پیک کر کے اور نازک چھلکوں میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]