Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Hadid — Ayah 13

57:13
يَوۡمَ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱنظُرُونَا نَقۡتَبِسۡ مِن نُّورِكُمۡ قِيلَ ٱرۡجِعُواْ وَرَآءَكُمۡ فَٱلۡتَمِسُواْ نُورٗاۖ فَضُرِبَ بَيۡنَهُم بِسُورٖ لَّهُۥ بَابُۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحۡمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلۡعَذَابُ ١٣
اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں  سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نُور سے کچھ فائدہ اُٹھائیں،1 مگر ان سے کہا جائے گا  پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان  ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔2
Footnotes
  • [1] اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل جنت اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور دروازہ بند کر دیا جائیگا۔ دروازے کے ایک طرف جنت کی نعمتیں ہونگی، اور دوسری طرف دوزخ کا عذاب۔ منافقین کے لیے اس حد فاصل کو پار کرنا ممکن نہ ہو گا جو ان کے اور جنت کے درمیان حائل ہو گی۔
  • [2] مطلب  یہ ہے کہ اہل ایمان جب جنت کی طرف جا رہے  ہونگے تو روشنی ان کے آگے ہو گی اور پیچھے منافقین اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہونگے ۔ اس وقت وہ ان اہل ایمان کو جو دنیا میں ان کے ساتھ ایک ہی مسلم معاشرے میں رہتے تھے ، پکار پکار کر کہیں گے کہ ذرا ہماری طرف پلٹ کر دیکھو تاکہ ہمیں بھی کچھ روشنی مل جائے۔