Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Hashr — Ayah 22

59:22
هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۖ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ ٢٢
1 وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں،2 غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا،3 وہی رحمٰن اور رحیم ہے۔4
Footnotes
  • [1]

    ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خدا جس کی طرف سے یہ قرآن تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، جس نے یہ ذمہ داریاں تم ڈالی ہیں، اور جس کے حضور بالآخر تمہیں جواب دہ ہونا ہے، وہ کیسا خدا ہے اور کیا اس کی صفات ہیں۔ اوپر کے مضمون کے بعد متصلاً صفات الہیٰ کا یہ بیان خود بخود انسان کے نادر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ اس کا سابقہ کسی معمولی ہستی سے نہیں ہے بلکہ اس عظیم و جلیل ہستی سے ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ اس مقام پر یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں اگر چہ جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی صفات بے نظیر طریقے سے بیان کی گئی ہیں جن سے ذات الٰہی کا نہایت واضح ہوتا ہے،لیکن دو مقامات ایسے ہیں جن میں صفات باری تعالیٰ کا جامع ترین بیان پایا جاتا ہے۔ ایک سورہ بقرہ میں آیت الکرسی (آیت 255)۔ دوسرے، سورہ حشر کی یہ آیات۔

  • [2]

    یعنی جس کے سوا کسی کی یہ حیثیت اور مقام اور مرتبہ نہیں ہے کہ اس کی بندگی و پرستش کی جائے۔ جس کے سوا کوئی خدائی کی صفات و اختیارات رکھتا ہی نہیں کہ اسے معبود ہونے کا حق پہنچتا ہو۔

  • [3]

    یعنی جو کچھ مخلوقات سے پوشیدہ ہے اس کو بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان پر ظاہر ہے اس سے بھی وہ واقف ہے اس کے علم سے اس کائنات میں کوئی شے بھی پوشیدہ نہیں۔ ماضی میں جو کچھ گزر چکا ہے، حال میں جو کچھ موجود ہے، اور مستقبل میں جو کچھ ہو گا، ہر چیز اس کو بارہ راست معلوم ہے۔ کسی ذریعہ علم کا  وہ محتاج نہیں ہے۔

  • [4]

    یعنی وہی ایک ہستی ایسی ہے جس کی رحمت بے پایاں ہے، تمام کائنات پر وسیع ہے، اور کائنات کی ہر چیز کو اس کا فیض پہنچتا ہے۔ سارے جہان میں کوئی دوسرا اس ہمہ گیر اور غیر محدود رحمت کا حامل نہیں ہے۔ دوسری جس ہستی میں بھی صفت رحم پائی جاتی ہے اس کی رحمت جزوی اور محدود ہے، اور وہ بھی اس کی ذاتی صفت نہیں ہے بلکہ خالق نے کسی مصلحت اور ضرورت کی خاطر اسے عطا کی ہے۔ جس مخلوق کے اندر بھی اس نے کسی دوسری مخلوق کے لیے جذبہ رحم پیدا کیا ہے، اس لیے پیدا کیا ہے کہ ایک مخلوق کو وہ دوسری مخلوق کی پرورش اور خوشحالی کا ذریعہ بنانا چاہت ہے۔ یہ بجائے خود اسی کی رحمت بے پایاں کی دلیل ہے۔