Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Jumu'ah — Ayah 9

62:9
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٩
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب  پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن1 تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو،2 یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو
Footnotes
  • [1] اس حکم میں ذکر سے مراد خطبہ ہے ، کیونکہ اذان کے بعد پہلا عمل جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کرتے تھے وہ نماز نہیں بلکہ خطبہ تھا، اور نماز آپ ہمیشہ خطبہ کے بعد ادا فرماتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول الہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جمعہ کے روز ملائکہ ہر آنے والے کا نام اس کی آمد کی ترتیب کے ساتھ لکھتے جاتے ہیں۔ پھر : اذا خرج الامام حضرت الملٰئکۃ یستمعون الذکر۔ جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو وہ نام لکھنے بند کر دیتے ہیں اور ذکر (یعنی خطبہ) سننے میں لگ جاتے ہیں ‘‘(مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی )۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہو کہ ذکر سے مراد خطبہ ہے۔ خود قرآن کا بیان بھی اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ پہلے فرمایا : فَاسْعَوْا اِلیٰ ذِکْرِ اللہِ۔ ’’ خدا کے ذکر کی طرف دوڑو ‘‘۔ پھر آگے چل کر فرمایا : فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلوٰۃُ فَانْتَشِرُوْ ا فِی الْارْضِ‘‘۔ جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ ‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے روز عمل کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے ذکر اللہ اور پھر نماز مفسرین کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ ذکر سے مراد یا تو خطبہ ہے یا پھر خطبہ اور نماز دونوں۔ خطبہ کے لیے ’’ ذکر اللہ‘‘ کا لفظ استعمال کرنا خود یہ معنی رکھتا ہے کہ اس میں وہ مضامین ہونے چاہییں جو اللہ کی یاد سے مناسبت رکھتے ہوں۔ مثلاً اللہ کی حمد و ثنا، اس کے رسولؐ پر درود صلوۃ، اس کے احکام اور اس کی شریعت کے مطابق عمل کی تعلیم و تلقین، اس ے ڈرنے والے بیک بندوں کی تعریف وغیرہ، اسی بنا پر زمخشری نے کشاف میں لکھا ہے کہ خطبہ میں ظالم حکم رانوں کی مدح و ثنا یا ان کا نام لینا اور ان کے لیے دعا کرنا، ذکر اللہ سے کوئی دور کی مناسبت بھی نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ تو ذکر الشیطان ہے۔ ’’ اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو‘‘۔ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بھاگتے ہوئے آؤ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلدی سے جلدی وہاں پہنچنے کی کوشش کرو۔ اردو زبان میں بھی ہم دوڑ دھوپ کرنا، بھاگ دوڑ  کرنا، سرگرم کوشش کے معنی میں بولتے ہیں، نہ کہ بھاگنے کے معنی میں، اسی طرح عربی میں بھی سعی کے معنی بھاگنے ہی کے نہیں ہیں۔ قرآن میں اکثر مقامات پر سعی کا لفظ کوشش اور جدو جہد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً : لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعیٰ۔ وَمَنْ اَرَا دَالْاٰخِرَۃَوَ سَعیٰ لَھَا سَعْیَھَا۔ فَلَمَّ بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ۔ وَاِذَ ا تَوَ لّیٰ سَعیٰ فِی ا لْاَرْضِ  لِیُفْسِدَ فِیْھَا۔ مفسرین نے بھی بالاتفاق اس کو اہتمام کے معنی میں لیا ہے ، ان کے نزدیک سعی یہ ہے کہ آدمی اذان کی آواز سن کر فوراً مسجد پہنچنے کی فکر میں لگ جائے۔اور معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے۔ حدیث میں بھاگ کر نماز کے لیے آنے کی صاف ممانعت وارد ہوئی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔’’ جب نماز کھڑی ہو تو اس کی طرف سکون و وقار کے ساتھ چل کر آؤ۔ بھاگتے ہوئے نہ آؤ، پھر جتنی نماز بھی مل جائے اس میں شامل ہو جاؤ، اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کر لو‘‘۔ (صحاح ستہ)۔ حضرت ابو قتادہ انصاریؓ فرماتے ہیں، ایک مرتبہ ہم حضورؐ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے کہ یکایک لوگوں کے بھاگ بھاگ کر چلنے کی آواز آئی۔ نماز ختم کرنے کے بعد حضورؐ نے ان لوگوں سے پوچھا یہ کیسی آواز تھی؟ ان لوگوں نے عرض کیا۔ ہم نماز میں شامل ہونے کے لیے بھاگ کر آ رہے تھے۔ فرمایا ’’ ایسا نہ کیا کرو، نماز کے لیے جب بھی آؤ پورے سکون کے ساتھ آؤ۔ جتنی مل جائے اس کو امام کے ساتھ پڑھ لو، جتنی چھوٹ جائے وہ بعد میں پوری کر لو‘‘ (بخاری، مسلم) ’’ خرید و فروخت چھوڑ دو‘‘ کا مطلب صرف خرید و فروخت ہی چھوڑنا نہیں ہے ، بلکہ نماز کے لیے جانے کی فکر اور اہتمام کے سوا ہر دوسری مصروفیت چھوڑ دینا ہے ، بیع کا ذکر خاص طور پر صرف اس لیے کیا گیا ہے کہ جمعہ کے رو تجارت خوب چمکتی تھی، آس پاس کی بستیوں کے لوگ سمٹ کر ایک جگہ جمع ہو جاتے تھے ، تاجر بھی اپنا مال لے لے کر وہاں پہنچ جاتے تھے۔ لوگ بھی اپنی ضرورت کی چیزیں خریدنے میں لگ جاتے تھے۔ لیکن ممانعت کا حکم صرف بیع تک محدود نہیں ہے ، بلکہ دوسرے تمام مشاغل بھی اس کے تحت آ جاتے ہیں، اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف ان سے منع فرما دیا ہے ، اس لیے فقہاء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد بیع اور ہر قسم کا کاروبار حرام ہے۔ یہ حکم قطعی طور پر نماز جمعہ کے فرض ہونے پر دلا لت کرتا ہے۔ اول تو اذان سنتے ہیں اس کے لیے دوڑنے کی تاکید بجائے خود اس کی دلیل ہے۔ پھر بیع جیسی حلال چیز کا اس کی خاطر حرام ہو جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فرض ہے۔ مزید برآں ظہر کی فرض نماز کا جمعہ کے روز ساقط ہو جانا اور نماز جمعہ کا اس کی جگہ لے لینا بھی اس کی فرضیت کا صریح ثبوت ہے۔ کیونکہ ایک فرض اسی وقت ساقط ہو تا ہے جبکہ اس کی جگہ لینے والا فرض اس سے زیادہ اہم ہو۔ اسی کی تائید بکثرت احادیث کرتی ہیں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جمعہ کی سخت ترین تاکید کی ہے اور اسے صاف الفاظ میں فرض قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’ میرا جی چاہتا ہے  کہ کسی اور شخص کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر دوں اور جا کر ان لوگوں کے گھر جلادوں جو جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے ‘‘۔(مسند احمد، بخاری)حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم نے جمعہ کے خطبہ میں حضورؐ کو یہ فرماتے سنا ہے : ’’ لوگوں کو چاہیے کہ جمعہ چھوڑ نے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ ان  کے دلوں پر ٹھپہ لگا دے گا اور وہ غافل ہو کر رہ جائیں گے ‘‘۔ (مسند احمد، مسلم، نسائی) حضرت ابو الجعدؓ ضحْری، حضرت جابرؓ بن عبداللہ اور حضرت عبد اللہؓ بن ابی اَوْفیٰ کی روایات میں حضورؐ کے جو ارشادات منقول ہوئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی حقیقی ضرورت اور جائز عذر کے بغیر، محض بے پروائی کی بنا پر مسلسل تین جمعے چھوڑ دے ، اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ‘‘۔ بلکہ ایک روایت میں تو الفاظ یہ ہیں کہ ’’ اللہ اس کے دل کو منافق کا دل بنا دیتا ہے ‘‘ ( مسند احمد، ابو داؤد نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، حاکم، ابن حبان، بزاز، طبرانی فی الکبیر) حضرت جابر بن عبداللہ  کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا ’’ آج سے لے کر قیامت تک جمعہ تم لوگوں پر فرض ہے۔ جو شخص اسے ایک معمولی چیز سمجھ کر یا اس کا حق نہ مان کر اسے چھوڑے ، خدا اس کا حال درست نہ کرے ، نہ اسے برکت دے۔ خوب سن رکھو، اس کی نماز نماز نہیں، اس کی زکوٰۃ زکوٰۃ نہیں، اس کا حج حج نہیں، اس کا روزہ روزہ نہیں، اس کی کوئی نیکی نیکی نہیں جب تک کہ وہ توبہ نہ کر لے اللہ  اسے معاف فرمانے والا ہے ‘‘۔ (ابن ماجہ، بزار ) اسی سے قریب المعنیٰ ایک روایت طبرانی نے اَوسط میں ابن عمرؓ سے نقل کی ہے۔ علاوہ بریں بکثرت روایات ہیں جن میں حضورؐ نے جمعہ کو بالفاظ صریح فرض اور حق واجب قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’ جمعہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو اس کی اذان سنے ‘‘ (ابو داؤد، دارقطنی) جابرؓ بن عبداللہ اور ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے خطبہ میں فرمایا۔’’ جان لو کہ اللہ نے تم پر نماز جمعہ فرض کی ہے ‘‘۔(بیہقی) البتہ آپ نے عورت، بچے غلام، مریض اور مسافر کو اس فرضیت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ حضرت حفصہ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا۔’’ جمعہ کے لیے نکلنا ہر بالغ پر واجب ہے ‘‘ (نسائی)۔  حضرت طارق بن شہاب کی روایت میں آپ کا ارشاد یہ ہے کہ ’’ جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے۔ سوائے غلام، عورت، بچے ، اور مریض کے ‘‘ (ابو داؤد، حاکم) حضرت جابرؓ بن عبداللہ کی روایت میں آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’ جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس پر جمعہ فرض ہے۔ الّا یہ کہ عورت ہو یا مسافر ہو، یا غلام ہو، یا مریض ہو‘‘ (دار قطنی، بیہقی) قرآن و حدیث کی ان ہی تصریحات کی وجہ سے جمعہ کی فرضیت پر پوری امت کا اجماع ہے۔
  • [2] اس فقرے میں تین باتیں خاص طور پر توجہ طلب ہیں۔ایک یہ کہ اس میں نماز کے لیے منادی کرنے کا ذکر ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی ایسی نماز کی منادی کا ذکر ہے جو خاص طور پر صرف جمعہ کے دن ہی پڑھی جانی چاہیے۔ تیسرے یہ کہ ان دونوں چیزوں کا ذکر اس طرح نہیں کیا گیا ہے کہ تم نماز کے لیے منادی کرو،اور جمعہ کے روز ایک خاص نماز پڑھا کرو، بلکہ انداز بیان اور سیاق و سباق صاف بتا رہا ہے کہ نماز کی منادی سن کر نماز کے لیے دوڑنے میں تساہُل برتتے تھے اور خرید و فروخت کرنے میں لگے رہتے تھے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت صرف اس غرض کے لیے نازل فرمائی کہ لوگ اس منادی اور اس خاص نماز کی اہمیت محسوس کریں اور فرض جان کر اس کی طرف دوڑیں۔ ان تینوں باتوں  پر اگر غور کیا جائے تو ان سے یہ اصولی حقیقت قطعی طور پر ثابت  ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کچھ ایسے احکام بھی دیتا تھا جو قرآن میں نازل ہوئے ، اور وہ احکام بھی اسی طرح واجب الاطاعت تھے جس طرح قرآن میں نازل ہونے والے احکام۔ نماز کی منادی وہی اذان ہے جو آج ساری دنیا میں ہر روز پانچ وقت ہر مسجد میں دی جا رہی ہے۔مگر قرآن میں کسی جگہ نہ اس کے الفاظ بیان کیے گئے ہیں، نہ کہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ نماز کے لیے لوگوں کو اس طرح پکارا کرو۔ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مقرر کردہ ہے۔ قرآن میں دو جگہ صرف اس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک اس آیت میں، دوسرے سورہ مائدہ کی آیت 85 میں۔ اسی طرح جمعہ کی یہ خاص نماز جو آج ساری دنیا کے مسلمان ادا کر رہے ہیں، اس کا بھی قرآن میں نہ حکم دیا گیا ہے نہ وقت اور طریق ادا بتایا گیا ہے۔ یہ طریقہ بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا جاری کردہ ہے ، اور قرآن کی یہ آیت صرف اس کی اہمیت اور اس کے وجوب کی شدت بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اس صریح دلیل کے باوجود جو شخص یہ کہتا ہے کہ شرعی احکام صرف وہی ہیں جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ در اصل سنت کا نہیں، خود قرآن کا منکر ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے جمعہ کے بارے میں چند امور اور بھی جان لینے چاہییں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جمعہ دراصل ایک اسلامی اصطلاح ہے ، زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اسے یوم عَرُوْبَہ کہا کرتے تھے۔ اسلام میں جب اس کو مسلمانوں کے اجتماع کا دن قرار دیا گیا تو اس کا نام جمعہ رکھا گیا۔ اگر چہ مؤرخین کہتے ہیں کہ کعب بن لُؤَیّ، یا قُصَیّ بن کِلاب نے بھی اس دن کے لیے یہ نام استعمال کیا تھا، کیونکہ اس روز وہ قریش کے لوگوں کا اجتماع کیا کرتا تھا (فتح الباری)، لیکن اس کے اس فعل سے قدیم نام تبدیل نہیں ہوا، بلکہ عام اہل عرب اسے عروبہ ہی کہتے تھے۔ نام حقیقی تبدیلی اس وقت ہوئی جب اسلام میں اس دن کا یہ نیا نام رکھا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اسلام سے پہلے  ہفتہ کا دن عبادت کے لیے مخصوص کرنے اور اس کو شعار ملت قرار دینے کا طریقہ اہل کتاب میں موجود تھا۔ یہودیوں کے ہاں اس غرض کے لیے سَبْت (ہفتہ) کا دن مقرر کیا گیا تھا، کیونکہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی نجات دی تھی۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودیوں سے ممیز کرنے کے لیے اپنا شعار ملت اتوار کا دن قرار دیا۔ اگر چہ اس کا کوئی حکم نہ حضرت عیسیٰ نے دیا تھا، نہ انجیل میں کہیں اس کا ذکر آیا ہے ، لیکن عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ صلیب پر جان دینے کے بعد حضرت عیسیٰ اِسی روز قبر سے نکل کر آسمان کی طرف گئے تھے۔ اسی بنا پر بعد کے عیسائیوں نے اپنی عبادت کا دن قرار دے لیا اور پھر 321 ء میں رومی سلطنت نے ایک حکم کے ذریعہ سے اس کو عام تعطیل کا دن مقرر کر دیا۔ اسلام نے ان دونوں ملتوں سے اپنی ملت کو ممیز کرنے کے لیے یہ دونوں دن چھوڑ کر جمعہ کو اجتماعی عبادت کے لیے اختیار کیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابو مسعود انصاری کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی فرضیت کا حکم نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ہجرت سے کچھ مدت پہلے مکہ معظمہ ہی میں نازل ہوچکا تھا۔ لیکن اس وقت آپ اس پر عمل نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ مکہ میں کوئی اجتماعی عبادت ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ اس لیے آپؐ ے ان لوگوں کو جو آپؐ سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچ چکے تھے ، یہ حکم لکھ بھیجا کہ وہاں جمعہ قائم کریں۔ چنانچہ ابتدائی مہاجرین کے سردار حضرت مُصعب بن عُمیر نے 12 آدمیوں کے ساتھ مدینے میں پلا جمعہ پڑھا ( طبرانی۔ دارقطنی)۔ حضرت کعب بن مالک اور ابن سیرین کی روایت یہ ہے کہ اس سے بھی پہلے مدینہ کے انصار نے بطور خود (قبل اس کے کہ حضورؐ کا حُکم ان کو پہنچا ہوتا ) آپس میں یہ طے کیا تھا کہ ہفتہ میں ایک دن مل کر اجتماعی عبادت کریں گے۔ اس غرض کے لیے انہوں نے یہودیوں کے سبت اور عیسائیوں کے اتوار کو چھوڑ کر جمعہ کا دن انتخاب کیا اور پہلا جمعہ حضرت اسعد بن زُرارہ  نے بنی بَیاضہ کے علاقہ میں پڑھا جس میں 40 آدمی شریک ہوئے (مسند احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ، ابن حِبان، عبد بن حُمید، عبدالرزاق، بیہقی)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے اسلامی ذوق خود اس وقت یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ ایسا ایک دن ہونا چاہیے جس میں زیادہ سے زیادہ مسلمان جمع ہو کر اجتماعی عبادت کریں، اور یہ بھی اسلامی ذوق ہی کا تقاضا تھا کہ وہ دن ہفتے اور اتوار سے الگ ہو تاکہ مسلمانوں کا شعار ملت یہود و نصاریٰ کے شعارِ ملت سے الگ رہے۔ یہ صحابہ کرامؓ کی اسلامی ذہنیت کا ایک عجیب کرشمہ ہے کہ بسا اوقات ایک حکم آنے سے پہلے ہی ان کا ذوق کہہ دیتا تھا کہ اسلام کی روح فلاں چیز کا تقاضا کر رہی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کے بعد جو اولین کام کیے ان میں سے ایک جمعہ کی اقامت بھی تھی۔ مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے آپ پیر کے روز قُبا پہنچے ، چارد وہاں قیام فرمایا، پانچویں روز جمعہ کے سن وہاں سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ، راستہ میں بنی سالم بن عوف کے مقام پر تھے کہ نماز جمعہ کا وقت آگیا، اسی جگہ آپؐ نے پہلا جمعہ ادا فرمایا (ابن ہشام)۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نماز کے لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے زوال کے بعد کا وقت مقرر فرمایا تھا، یعنی وہی وقت جو ظہر کی نماز کا وقت ہے۔ ہجرت سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر کو جو تحریری حکم آپ نے بھیجا تھا اس میں آپؐ کا ارشاد یہ تھا کہ : فاذامال النھار عن شطرہ عندالزوال من یوم الجمعۃ فتقربوا الی اللہ تعالیٰ برکعتین (دارقُطنی)۔ ’’ جب جمعہ کے روز دن نصف النہار سے ڈھل جائے تو دو رکعت نماز کے ذریعہ سے اللہ کے حضور تقرب حاصل کرو ‘‘۔ یہ حکم ہجرت کے بعد آپ نے قولاً بھی دیا اور عملاً بھی اسی وقت پر آپ جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ حضرت اَنَسؓ، حضرت سلمہؓ بن اکوع، حضرت جابرؓ بن عبداللہ، حضرت زبیر بن لعوام، حضرت سہلؓ بن سعد، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عمار بن یا سر اور حضرت بلالؓ سے اس مضمون کی روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں کہ حضورؐ جمعہ نماز زوال کے بعد ادا فرمایا کرتے تھے (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نَسائی، تِرمذی )۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ امر بھی آپ کے عمل سے ثابت ہے کہ اس روز آپ ظہر کی نماز کے بجائے جمعہ کی نماز پڑھاتے تھے ، اس نماز کی صرف دو رکعتیں ہوتی تھیں، اور اس سے پہلے آپ خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ یہ فرق جمعہ کی نماز اور عام دنوں کی نماز ظہر میں تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں صلوٰۃ المسافر رکعتان، وصلوٰۃ الفجر رکعتان، و صلوٰۃ الجمعۃ رکعتان، تمام غیر قصرٍ علیٰ لسان نبیکم صلی اللہ علیہ و سلم و انما قصرت الجمعۃ لا جل الخطبۃ (احکام القرآن للجصاص)۔ ’’ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے  نکلے ہوئے حکم کی رو سے مسافر کی نماز دو رکعت ہے ، فجر کی نماز دو رکعت ہے ، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے۔ یہ پوری نماز ہے ، قصر نہیں ہے۔ اور جمعہ کو خطبہ کی خاطر ہی مختصر کیا گیا ہے ‘‘۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس اذان کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد وہ اذان ہے جو خطبہ سے پہلے دی جاتی ہے ، نہ کہ وہ اذان جو خطہ سے کافی دیر پہلے لوگوں کو یہ اطلاع دینے لیے دی جاتی ہے کہ جمعہ کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ حدیث میں حضرت سائبؓ بن یزید کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں صرف ایک ہی اذان ہوتی تھے ، اور وہ امام کے منبر پر پیٹھنے کے بعد دی جاتی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی یہی عمل ہوتا رہا۔ پھر حضرت عثمانؓ کے دور میں جب آبادی بڑھ گئی تو انہوں نے پہلے ایک اور اذان دلوانی شروع کر دی جو مدینے کے بازار میں ان کے مکان زَوراء پر دی جاتی تھی (بخاری، ابو داؤد، نَسائی، طبرانی)۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]