Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah At-Talaq — Ayah 2

65:2
فَإِذَا بَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمۡسِكُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ فَارِقُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٖ وَأَشۡهِدُواْ ذَوَيۡ عَدۡلٖ مِّنكُمۡ وَأَقِيمُواْ ٱلشَّهَٰدَةَ لِلَّهِۚ ذَٰلِكُمۡ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا ٢
پھر جب وہ اپنی (عدّت کی) مدّت کے خاتمے پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو، یا بَھلے طریقے پر اُن سے جُدا ہو جاؤ۔1 اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں۔2 اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو۔یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے، ہر اُس شخص کو جو اللہ اور آخرت کےدن پر ایمان رکھتا ہو۔3 جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا4
Footnotes
  • [1] سیاق کلام  خود بتا رہا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے کام کرنے کا مطلب سنت کے مطابق طلاق دینا، عدت کا ٹھیک ٹھیک حساب رکھنا، بیوی کو گھر سے نہ نکالنا، عدت کے اختتام پر عورت کو روکنا ہو تو نباہ کرنے کی نیت سے رجوع کرنا اور علیحدگی ہی کرنی ہو تو بھلے آدمیوں کی طرح اس کو رخصت کر دینا، اور طلاق، رجوع یا مفارقت، جو بھی ہو، اس پر وہ عادل آدمیوں کو گواہ بنا لینا ہے ۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو اس طرح تقویٰ سے کام لے گا اس کے لیے ہم کوئی مخرج(یعنی مشکلات سے نکلنے کا راستہ) نکال دیں گے ۔ اس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص ان امور میں تقویٰ سے کام نہ لے گا وہ اپنے لیے خود ایسی الجھنیں اور مشکلات پیدا کر لے گا جن سے نکلنے کا کوئی راستہ اسے نہ مل سکے گا۔ ان الفاظ پر غور کیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے نزدیک طلاق بدعی سرے سے واقع ہی نہیں ہوتی اور جو لوگ بیک وقت یا ایک ہی طہر میں دی ہوئیں تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق قرار دیتے ہیں، ان کی رائے صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر طلاق بدعی واقع ہی نہ ہو تو سرے سے کوئی الجھن پیش نہیں آتی جس سے نکلنے کے لیے کسی مخرج کی ضرورت ہو۔ اور اگر تین طلاق اکٹھی دے بیٹھنے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہو، تب بھی مخرج کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس صورت میں آخر وہ پیچیدگی کیا ہے جس سے نکلنے کے لیے کسی راستے کی حاجت پیش آئے ؟
  • [2] یہ الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ اوپر جو ہدایات دی گئی ہیں وہ نصیحت کی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ قانون کی۔ آدمی سنت کے خلاف طلاق دے بیٹھے ، عدت کا شمار محفوظ نہ رکھے ، بیوی کو بلا عذر معقول گھر سے نکال دے ، عدت کے خاتمے پر رجوع کرے تو عورت کو ستانے کے لیے کرے اور رخصت کرے تو لڑائی جھگڑے کے ساتھ کرے ، اور طلاق، رجوع، مفارقت، کسی چیز پر بھی گواہ نہ بنائے ، تو اس سے طلاق اور رجوع اور مفارقت کے قانونی نتائج میں کوئی فرق واقع نہ ہ گا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت کے خلاف عمل کرنا اس بات کی دلیل ہو گا کہ اس کے دل میں اللہ اور روز آخر پر صحیح ایمان موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اس نے وہ طرز عمل اختیار کیا جو ایک سچے مومن کو اختیار نہ کرنا چاہیے ۔
  • [3] ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اس سے مراد طلاق پربھی گواہ بنانا ہے اور رجوع پر بھی (ابن جریر)۔ حضرت عمران بن حصین سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر اس سے رجوع کر لیا، مگر نہ طلاق پر کسی کو گواہ بنایا نہ رجوع پر۔ انہوں نے جواب دیا’’ تم نے طلاق بھی سنت کے خلاف دی اور رجوع بھی سنت کے خلاف کیا۔ طلاق اور رجعت اور فرقت پر گواہ بنانا، ان افعال کی صحت کے لیے شرط نہیں ہے کہ اگر گواہ نہ بنایا جائے تو نہ طلاق واقع ہو، نہ رجوع صحیح ہو اور نہ فرقت، بلکہ یہ حکم اس احتیاط کے لیے دیا گیا ہے کہ فریقین میں سے کوئی بعد میں کسی واقعہ کا انکار نہ کر سکے ، اور نزاع پیدا ہونے کی صورت میں بآسانی فیصلہ ہو سکے ، اور شکوک و شبہات کا دروازہ بھی بند ہو جائے ۔ یہ حکم بالکل ایسا ہی ہے جیسے فرمایا: وَاَشْھِدُوْآاِذَا تَبَا یَعْتُمْ، ’’ جب تم آپس میں بیع کا کوئی معاملہ طے کرو تو گواہ بنا لو‘‘(بقرہ۔ 282)۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیع پر گواہ بنانا فرض ہے اور اگر گواہ نہ بنایا جائے تو بیع صحیح نہ ہو گی، بلکہ یہ ایک حکیمانہ ہدایت ہے جو نزاعات کا سد باب کرنے کے لیے دی گئی ہے اور اس پر عمل کرنے ہی میں بہتری ہے ۔ اسی طرح طلاق اور رجوع کے معاملہ میں بھی صحیح بات یہی ہے کہ ان میں سے ہر فعل گواہیوں کے بغیر بھی قانوناً درست ہو جاتا ہے ، لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جو فعل بھی کیا جائے ، اسی وقت یا اس کے بعد دو صاحب عدل آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لیا جائے ۔
  • [4] یعنی ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں  عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے فیصلہ کر لو کہ آیا عورت کو اپنی زوجیت میں رکھنا ہے یا نہیں۔ رکھنا ہو تو نباہنے کی غرض سے رکھو، اس غرض سے نہ رکھو کہ اس کو ستانے کے لیے رجوع کر لو  اور اپھر طلاق دے کر اس کی عدت لمبی کرتے رہو۔ اور اگر رخصت کرنا ہو تو شریف آدمیوں کی طرح کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر رخصت کرو، مہر یا اس کا کوئی حصہ باقی ہو تو ادا کر دو، اور حسب توفیق کچھ نہ کچھ متعہ طلاق کے طور پر دو، جیسا کہ سورہ بقرہ آیت 241 میں ارشاد ہوا ہے ۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 86)۔