Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Nuh — Ayah 4

71:4
يَغۡفِرۡ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمۡ وَيُؤَخِّرۡكُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمًّىۚ إِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ إِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُۚ لَوۡ كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٤
اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا1 اور تمہیں ایک وقتِ مقرر تک باقی رکھے گا۔2 حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا۔3 کاش تمہیں اِس کا علم ہو۔“4
Footnotes
  • [1] یعنی اگر تمہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ میرے ذریعہ سے اللہ کا پیغام پہنچ جانے کے بعد اب جو وقت گزر رہا ہے  یہ دراصل ایک مہلت ہے جو تمہیں ایمان لانے کے لیے دی جارہی ہے، اور اس مہلت کی مدت ختم ہو جانے کے بعد پھر خدا کے عذاب سے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے، تو تم ایمان لانے میں جلدی کر و گے اور نزولِ عذاب کا وقت آنے تک اس کو ٹالتے نہ چلے جاؤ گے۔
  • [2] اس دوسرے وقت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ نے کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے مقرر کر دیا ہو۔ اس کے متعلق متعدد مقامات پر قرآن مجید میں یہ بات بصراحت بیان کی گئی ہے کہ جب کسی قوم کے حق میں نزولِ عذاب کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے اُس کے بعد وہ ایمان بھی لے آئے تو اسے معاف نہیں کیا جاتا۔
  • [3] یعنی اگر تم نے یہ تین باتیں مان لیں تو تمہیں دنیا میں اُس وقت تک جینے کی مہلت دے دی جائے گی جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طبعی موت کے لیے مقر کیا ہے۔
  • [4] اصل الفاظ ہیں یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ۔ اس فقرے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تمہارے گناہوں میں سے بعض کو معاف کر دے گا، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اگر تم اُن تین باتوں کو قبول کر لو جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہیں تو اب تک جو گناہ تم کر چکے ہو اُن سب سے وہ درگزر فرمائے گا۔ یہاں مِنْ تبعیض کے لیے نہیں بلکہ عَن ْکے معنی میں ہے۔