Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Nuh — Ayah 7

71:7
وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوۡتُهُمۡ لِتَغۡفِرَ لَهُمۡ جَعَلُوٓاْ أَصَٰبِعَهُمۡ فِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَٱسۡتَغۡشَوۡاْ ثِيَابَهُمۡ وَأَصَرُّواْ وَٱسۡتَكۡبَرُواْ ٱسۡتِكۡبَارٗا ٧
اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تُو انہیں معاف کر دے،1 انہوں نے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے2 اور اپنی روش پر اَڑ گئے اور بڑا تکبّر کیا۔3
Footnotes
  • [1] منہ ڈھانکنے کی غرض یا تو یہ تھی کہ وہ حضرت نوح ؑ کی بات سننا تو درکنار، آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتے تھے، یا پھر یہ حرکت وہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے منہ چھپا کر نکل جائیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ اُنہیں پہچان کر اُن سے بات کرنے لگیں۔ یہ ٹھیک وہی طرزِ عمل تھا جو کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اختیار کر رہے تھے۔ سورہ ہود آیت 5 میں اُن کے اِس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔”دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تا کہ رسول سے چُھپ جائیں۔ خبر دار!جب یہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکتے ہیں تو اللہ  ان کے کھلے کو بھی جانتا ہے اور چھپے کو بھی، وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں سے بھی واقف ہے، (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم،ہود،حواشی5۔۶)۔
  • [2] تکبُّر سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے حق کے آگے سر جھکا دینے اور خدا کے رسول کی نصیحت قبول کرلینے کو اپنی شان سے گری ہوئی بات سمجھا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بھلا آدمی کسی بگڑے ہوئے شخص کو نصیحت کرے اور وہ جواب میں جھٹک کر اٹھ کھڑا ہو اور پاؤں پٹختا ہوا نکل جائے تو یہ تکبُّر کے ساتھ کلامِ نصیحت کو رد کرنا ہوگا۔
  • [3] اس میں خود بخود یہ مضمون شامل ہے کہ وہ نافرمانی کی روش چھوڑ کر معافی کے طلب گارہوں ، کیونکہ اسی صورت میں اُن کو اللہ تعالیٰ سے معافی مل سکتی تھی۔