Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Muddaththir — Ayah 56

74:56
وَمَا يَذۡكُرُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ هُوَ أَهۡلُ ٱلتَّقۡوَىٰ وَأَهۡلُ ٱلۡمَغۡفِرَةِ ٥٦
اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے اِلّا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔1 وہ اس کا حق دار ہے کہ اُس سے تقویٰ کیا جائے2 اور وہ اس کا اہل ہے کہ (تقویٰ کرنے والوں کو) بخش دے۔3
Footnotes
  • [1] یعنی یہ اللہ ہی کو زیب دیتا ہے کہ کسی نے خواہ اس کی کتنی ہی نافرمانیاں کی ہوں ، جس وقت بھی وہ اپنی اِس روش سے باز آجائے اللہ اپنا دامن رحمت اس کے لیے کشادہ کر دیتا ہے۔ اپنے بندوں کے لیے کوئی  جذبۂ انتقام وہ اپنے اندر نہیں رکھتا کہ ان کے قصوروں سے وہ کسی حال میں درگزر ہی نہ کرے اور انہیں سزا دیے بغیر چھوڑے۔
  • [2] یعنی تمہیں اللہ کی ناراضی سے بچنے کی جو نصیحت کی جارہی ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ کو اِس کی ضرورت ہے اور اگر تم ایسا نہ کرو تو اُس سے اللہ کا کوئی نقصان  ہوتا ہے،بلکہ یہ نصیحت اس بنا پر کی جا رہی ہے کہ اللہ کا یہ حق ہے کہ اس کے بندے اس کی رضا چاہیں اور اس کی مرضی کے خلاف نہ چلیں۔
  • [3] یعنی کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا  سراسر اُس کی اپنی مثیت ہی پر موقوف نہیں ہے ، بلکہ اُسے نصیحت اُسی وقت نصیب ہوتی ہے جب کہ اللہ کی مثیت بھی یہ ہو کہ وہ اُسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ دوسرے الفاظ میں یہاں اِس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ بندے کا کوئی فعل بھی تنہا بندے کی اپنی مثیت سے ظہور میں نہیں آتا ، بلکہ ہر فعل اُسی وقت پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے جب خدا کی مثیت بندے کی مثیت سے مل جائے۔ یہ ایک نہایت نازل مسئلے ہے جسے نہ سمجھنے سے انسانی فکر بکثرت ٹھو کر یں کھاتی ہے۔ مختصر الفاظ میں اِس کو یُوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر اِس دنیا میں ہر انسان کو یہ قدرت حاصل ہوتی کہ جو کچھ وہ کرنا چاہے کر گزرے تو ساری دنیا کا نظام درہم بر ہم ہو جاتا۔ جو نظم اس جہان میں قائم ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ  اللہ مثیت ساری مثیتوں پر غالب ہے۔ انسان جو کچھ بھی کرنا چاہے وہ اُسی وقت کر سکتا ہے جبکہ اللہ بھی یہ چاہے کہ انسان کو وہ کام کرنے دیا جائے۔ یہی معاملہ ہدایت اور ضلالت کا بھی ہے۔ انسان کا محض خود ہدایت چاہنا اس کے لیے کافی نہیں ہے کہ اُسے ہدایت مل جائے، بلکہ اُسے ہدایت اُس وقت ملتی ہے جب اللہ اُس کی اس خواہش کر پورا کرنے کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔ اسی طرح ضلالت کی خواہش بھی محض بندے کی طرف سے ہونا کافی نہیں ہے۔ بلکہ جب اللہ اس کے اندر گمراہی کی طلب پا کر یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ اسے غلط راستوں میں بھٹکنے دیا جائے تب وہ اُن راہوں میں بھٹک نکلتا ہےجن پر اللہ اسے جانے کا موقع دے دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی چور بننا چاہے تو محض اس کی یہ خواہش اِس کے لیے کافی نہیں ہے کہ جہاں جس کےگھر میں گھس کر وہ جو کچھ چاہے چرا لےجائے، بلکہ اللہ اپنی عظیم حکمتوں اور مصلحتوں کے مطابق اس کی اِس خواہش کو جب اور جس قدر اور جس شکل میں پورا کرنے کا موقع دیتا ہے اسی حد تک وہ اسے پورا کر سکتا ہے۔