Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Insan — Ayah 12

76:12
وَجَزَىٰهُم بِمَا صَبَرُواْ جَنَّةٗ وَحَرِيرٗا ١٢
اور اُن کے صبر کے بدلے میں1 اُنہیں جنّت اور ریشمی لباس عطا کرے گا
Footnotes
  • [1] یہاں صبر بڑے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے، بلکہ درحقیقت صالح اہلِ ایمان کی پُوری دنیوی زندگی ہی کو صبر کی زندگی قرار دیا گیا ہے۔ ہوش سنبھالنے یا ایمان لانے کے بعد سے مرتے دم تک کسی شخص کا اپنی ناجا ئز خواہشوں کو دبانا، اللہ باندھی ہوئی حدوں کی پانبدی کرنا ، اللہ کے عائد کیے ہوئے فرائض کو بجا لانا، اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنا وقت، اپنا مال،اپنی محنتیں، اپنی قوتیں اور قابلیتیں، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک قربان کر دینا، ہر اُس لالچ اور ترغیب کو ٹھکرادینا جو اللہ کی راہ سے ہٹانے کے لیے سامنے آئے، ہر اُس خطرے اور تکلیف کو برداشت کر لینا جو راہِ راست پر چلنے میں پیش آئے، ہر اُس فائدے اور لذت سے دست بردار ہوجانا جو حرم طریقوں سے حاصل ہو، ہر اُس نقصان اور رنج اور اذیت کو انگیز کر جانا جو حق پرستی کی وجہ سے پہنچے، اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اِ س وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے کرنا کہ اِس نیک رویّے کی ثمرات اِس دنیا میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں ملیں گے ، ایک ایسا طرز عمل ہے جو مومن کی پوری زندگی کو صبر کی زندگی بنا دیتا ہے ۔ یہ ہر وقت کا صبر ہے ، دائمی صبر ہے، ہمہ گیر صبر ہے اور عمر بھر کا صبرہے۔(مزید تشریح کےلیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل  ،البقرہ،حاشیہ۶۰۔ آلِ عمران، حواشی131،1۰7،13۔ الانعام،حاشیہ23۔ جلددوم، الانفال،حواشی47،37،یونس،حاشیہ،9۔ہود،حاشیہ11۔الرعد،حاشیہ39۔النحل،حاشیہ98۔جلد سوم،مریم،حاشیہ4۰۔ الفرقان،حاشیہ94۔ القصص، حواشی1۰۰،75۔العنکبوت،حاشیہ98۔جلد چہارم،لقمان،حواشی5۶،29۔ السجَّدہ،حاشیہ37۔ الاَحزاب ،حاشیہ57۔ الزُّمَر،حاشیہ32۔حٰم السجّدہ، حاشیہ38۔ الشّوریٰ،حاشیہ53)۔