Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Insan — Ayah 21

76:21
عَٰلِيَهُمۡ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضۡرٞ وَإِسۡتَبۡرَقٞۖ وَحُلُّوٓاْ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٖ وَسَقَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ شَرَابٗا طَهُورًا ٢١
اُن کے اوپر باریک ریشم کےسبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے،1 ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے،2 اور ان کا ربّ ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔3
Footnotes
  • [1] پہلے دو شرابوں  کا ذکر گزر چکا ہے۔ ایک وہ جس میں آبِ چشمۂ کافور کی آمیزش ہوگی۔ دوسری وہ جس میں آبِ چشمہ زنجیل کی آمیزش ہوگی۔ ان دونوں شرابوں کے بعد اب پھر ایک شراب کا ذکر کرنا اور یہ فرمانا کہ ان کا رب انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا، یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ کوئی اور بہترین نو عیت کی شراب ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضلِ خاص کے طور پر انہیں پلائی جائے گی۔
  • [2] سورہ کہف آیت 31 میں فرمایا گیا ہے یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَا وِرَمِنْ ذَھَبٍ۔”وہ وہاں سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے “۔ یہی مضمون سورہ حج آیت23، اور سورہ فاطر آیت 33 میں بھی ارشاد ہوا ہے۔ ان سب آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو تین صورتیں ممکن محسوس ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ کبھی وہ چاہیں گے تو  سونے کے کنگن پہنیں گے اور کبھی چاہیں گے تو چاندی کے کنگن پہن لیں گے۔ دونوں چیزیں ان کے حسبِ خواہش موجود ہوں گی۔ دوسرے یہ کہ سونے اور چاندی کے کنگن وہ بیک وقت پہنیں گے، کیونکہ دونوں کے ملا دینے سے حسن دوبالا ہو جاتا ہے، تیسرے یہ کہ جس کا جی چاہے گا سونے کے کنگن پہنے گا اور جو چاہے گا چاندی کے کنگن استعمال کرے گا۔ رہا یہ سوال کہ زیور تو عورتیں پہنتی ہیں، مردوں کو زیور پہنانے کا کیا موقع ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قدیم زمانے میں بادشاہوں اور رئیسوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہاتھوں اور گلے اور سر کے تاجوں میں طرح طرح کے زیورات استعمال کرتے تھے، بلکہ ہمارے زمانے میں بر طانوی ہندکے راجا ؤں اور نوابوں تک میں یہ  دستور رائج رہا ہے۔ سورہ زَخْرُف میں  بیان ہوا ہے کہ حضرت موسٰی جب اپنے سادہ لباس میں بس ایک لاٹھی لیے ہوئے فرعون کے دربار میں پہنچے اور اس سے کہا کہ میں اللہ رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں تو اس نے اپنے درباریوں سے کہا کہ یہ اچھا سفیر ہے جو اس حالت میں میرے سامنے آیا ہے، فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَھَبٍ اَوْجَآ ءَ مَعَہُ الْمَلٰئکِۃُ مُقْتَرِنِیْنَ    (آیت53)۔یعنی اگر یہ زمین و آسمان کے بادشاہ کی طر ف سے بھیجا گیا ہوتا تو کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے؟ یا ملائکہ کا کوئی لشکر ہی اس کی اردلی میں آتا۔
  • [3] یہی مضمون سورہ کہف آیت 31 میں گزر چکا ہے کہ وَیَلْبَسُوْنَ ثِیَا باً خُضْراً مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّکِئِیْنَ فِیْھَاعَلَی الْاَرَآئِکِ۔  ”وہ یعنی (اہل جنت) باریک ریشم اور اطلس و دیباکے سبز کپڑے پہنیں گے، اونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے“۔  اس بنا پر اُن مفسرین کی رائے صحیح نہیں معلوم ہوتی جنہوں نے یہ خیال ظا ہر کیا ہے کہ اس سے مراد وہ کپڑے ہیں جو اُن کی مسندوں یا مسہریوں کے اوپر لٹکے ہوئے ہونگے، یا یہ اُن لڑکوں کا لباس ہوگا جو اُن کی خدمت میں دوڑے پھر رہے ہوں گے۔