Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Insan — Ayah 8

76:8
وَيُطۡعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسۡكِينٗا وَيَتِيمٗا وَأَسِيرًا ٨
اور اللہ کی محبت1 میں مسکین اور یتیم اور قیدی2 کو کھانا کھلاتے ہیں3
Footnotes
  • [1] اصل الفاظ ہیں عَلیٰ حُبِّہٖ۔ اکثر مفسرین نے حُبِّہٖ کی ضمیر کا مرجع کھانے کوقرار دیا ہے، اور وہ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ کھانے کےمحبوب اور دل پسند ہونے اور خود اُس کے حاجت مند ہونے کے باوجود دوسروں کو  کھلادیتے ہیں۔ ابن عباس ؓ اور مجاہد کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے عَلیٰ حُبِّ الاِطعام، یعنی غریبوں کو کھانا کھلانے کے شوق میں وہ ایسا کرتے ہیں۔ اور حضرت فُضَیل بن عیاض اور ابو سلیمان الدّرانی کہتےہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں وہ یہ کام کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک بعد کا یہ فقرہ کہ اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہِ (ہم تو اللہ کی خوشنودی کی خاطر تمہیں کھلا رہے ہیں)، اسی معنی کی تائید کرتا ہے۔
  • [2] اگرچہ بجائے خود کسی غریب کو کھانا کھلانا بھی ایک بہت بڑی نیکی ہے ،لیکن کسی حاجت مند کی دوسری حاجتیں پوری کرنا بھی ویسا ہی نیک کام ہے جیسا بھوکے کو کھانا کھلانا۔ مثلاً کوئی کپڑے کا محتاج ہے، یا کوئی بیمار ہے اور علاج کا محتاج ہے ، یا کوئی قرضدار ہے اور قرض خواہ اسے پریشان کر رہا ہے ، تو اس کی مدد کرنا کھانا کھلانے سے کم درجے کہ نیکی نہیں ہے۔ اس لیے اس آیت میں نیکی کی ایک خاص صورت کو اس کی اہمیت کے لحاظ سے بطور مثال پیش کیا گیا ہے، ورنہ اصل مقصود حاجت مندوں کی مدد کرنا ہے۔
  • [3] قدیم زمانے میں دستور یہ تھا کہ قیدیوں کو ہتھکڑی اور بیڑیاں لگا کر روزانہ باہر نکالا جاتا تھا اور وہ سڑکوں پر یا محلّوں میں بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے تھے۔ بعد میں اسلامی حکومت نے یہ طریقہ بند کیا(کتاب الخراج، امام ابو یوسف، صفحہ15۰۔طبع1382ھ۔ اِس آیت میں قیدی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قید میں ہو، خواہ کافر ہو یا مسلمان، خواہ جنگی قیدی ہو، یا کسی جُرم میں قید کیا گیا ہو، خوا ہ اسے قید کی حالت میں کھانا دیا جاتا ہو یا بھیک منگوائی جاتی ہو، ہر حالت میں ایک بے بس آدمی کو جو اپنی روزی کے یے خود کوئی کوشش نہ کر سکتا ہو، کھانا کھلانا ایک بڑی نیکی کا کام ہے۔