Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naba — Ayah 20

78:20
وَسُيِّرَتِ ٱلۡجِبَالُ فَكَانَتۡ سَرَابًا ٢٠
اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔1
Footnotes
  • [1] اس مقام پر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہاں بھی قرآن کے دوسرے بہت سی مقامات کی طرح قیامت کے مختلف مراحل کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں اس کیفیت کا ذکر ہے جو آخری نفخِ صور کے وقت پیش آئے گی ، اور بعد کی دو آیتوں میں وہ حالت بیان کی گئی ہے جو دوسرے نفخِ صور کے موقع پر رونما ہو گی۔ اس کی وضاحت ہم تفہیم القرآن،جلد ششم،تفسیر سورہ الحاقہ، حاشیہ1۰۔میں کر چکے ہیں۔ ”آسمان کھول دیا جائے گا“سے مراد یہ ہے کہ  عالمِ بالا میں کوئی بندش اور رکاوٹ باقی نہ رہے گی  اور ہر طرف سے  ہر آفتِ سمادی اس طرح ٹوٹی پڑے ہوگی کہ معلوم ہوگا گویا اس کے آنے کے لیے سارے دروازے کھلے ہیں اور اس کو روکنے کے لیے کوئی دورازہ بھی بند نہیں رہا ہے۔ پہاڑوں کے چلنے اور سراب بن کر رہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھتے دیکھتے پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اڑیں گے اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر اس طرح پھیل جائیں گے کہ جہاں پہلے کبھی پہاڑ تھےوہاں ریت کے وسیع میدانوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا ۔ اسی کیفیت کو سورہ طٰہٰ میں یوں بیان کیا گیا ہے :”یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے ؟ اس سے کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار  چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ تک نہ دیکھو گے“(آیت 1۰5تا1۰7 مع حاشیہ83 )۔