Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naba — Ayah 38

78:38
يَوۡمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ صَفّٗاۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَقَالَ صَوَابٗا ٣٨
جس روز رُوح1 اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔2
Footnotes
  • [1] بولنے سے مراد شفاعت ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ وہ صرف دوشرطوں کے ساتھ ممکن ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس شخص کو جس گنہگار کے حق میں شفاعت کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی صرف وہی شخص اُسی کے حق میں شفاعت کر سکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ شفاعت  کرنے والا بجا اور درست کہے، بے جا نوعیت کی سفارش نہ کرے، اور جس کے معاملہ میں وہ سفارش کر رہا ہو وہ دنیا میں کم از کم کلمہ حق کا قائل رہا ہو، یعنی محض گناہ کار ہو، کافر نہ ہو۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہوتفہیم القرآن، جلد اول ، البقرہ، حاشیہ281۔ جلد دوم، یونس، حاشیہ5۔ہود، حاشیہ1۰۶۔جلد سوم،مریم،حاشیہ52۔طٰہٰ، حواشی85۔8۶۔الانبیاء، حاشیہ27۔ جلدچہارم، سبا، حواشی4۰۔41۔ المومن،حاشیہ32۔الزّخرف،حاشیہ۶8۔جلد پنجم، النجم، حاشیہ21۔جلد ششم، المدّثّر، حاشیہ3۶)۔
  • [2] اہلِ تفسیر کی اکثریت کا خیال یہی ہے کہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں اور ان کا جو بلند مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے اس کی وجہ سے ملائکہ سے الگ ان کا ذکر کیا گیا ہے(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المعارج، حاشیہ3)۔