Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah 'Abasa — Ayah 17

80:17
قُتِلَ ٱلۡإِنسَٰنُ مَآ أَكۡفَرَهُۥ ١٧
لعنت ہو1 انسان پر،2 کیسا سخت مُنکرِ حق ہے یہ۔3
Footnotes
  • [1] دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ”کس چیز نے اسے کفر پر آمادہ کیا“؟یعنی بالفاظ دیگر کس بل بوتے پر یہ کفر کرتا ہے؟ کفر سے مراد  اس جگہ حق کا انکار بھی ہے، اپنے مُحسن کے احسانات کی ناشکری بھی، اور اپنے خالق و رزاق اور مالک کے مقابلہ میں با غیانہ روش بھی۔
  • [2] قرآن مجید  میں ایسے تمام مقامت پر انسان سے مراد نوعِ انسانی کا ہر فرد نہیں  ہوتا بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی ناپسندیدہ صفات کی مذّمت کرنا مقصود ہوتا ہے”انسان“کا لفظ کہیں تو اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ نوعِ انسانی کے اکثر افراد میں وہ مذموم صفات پائی جاتی ہیں، اور کہیں اِس کے استعمال کی وجیہ یہ ہوتی ہے کہ مخصوص لوگوں کو تعیُّن کے ساتھ اگر ملامت کی جائے تو ان میں ضد پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے نصیحت کا یہ طریقہ زیادہ مؤ ثر ہوتا ہے کہ عمومی انداز میں بات کہی جائے(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، حٰم السجدہ، حاشیہ ۶5۔ الشوریٰ، حاشیہ75)۔
  • [3] یہاں سے عتاب کا رُخ براہ راست اُن کفار کی طرف پھرتا ہے جو حق سے بے نیازی برت رہے تھے۔ اس سے پہلے آغازِ سُورہ سے آیت 1۶ تک خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا اور عتاب ورپردہ کفار پر فرمایا جا رہا تھا۔ اُس کے اندازِ بیان یہ تھا کہ اَے نبی، ایک طالبِ حق کو چھوڑ کو آپ یہ کن لوگوں پر اپنی توجہ صرف کر رہے ہیں جو دعوت حق کے نقطئہ نظر سے بالکل بے قدرو قیمت ہیں اور جن کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جیسا عظیم القدر پیغمبر قرآن جیسی بلند مرتبہ چیز کو ان کے آگے پیش کرے۔