Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-A'la — Ayah 3

87:3
وَٱلَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ ٣
جس نے تقدیر بنائی1 پھر راہ دکھائی،2
Footnotes
  • [1] یعنی کسی چیز کو بھی محض پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا، بلکہ جو چیز بھی جس کا م کے لیے پیدا کی اُسے اُس کام کے انجام دینے  کا طریقہ بتایا۔ بالفاظ دیگر وہ محض خالق ہی نہیں ہے، ھادی بھی ہے۔ اس نے یہ ذمّہ لیا ہے کہ جو چیز جس حیثیت میں اُس نےپیدا کی ہے اس کو ویسی ہی ہدایت دے جس کے وہ لائق ہے اور اُسی طریقہ سے ہدایت دے جو اُس کے لیے موزوں ہے۔ ایک قسم کی ہدایت زمین اور چاند اور سورج اور تاروں اور سیّاروں کے لیے ہے جس پر وہ سب چل رہے ہیں اور اپنے حصے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ایک اور قسم کی ہدایت پانی اور ہوا اور روشنی اور جمادات  و معادنیات کے لیے جس کے مطابق وہ ٹھیک ٹھیک وہی خدمات  بجا لا رہے ہیں جن کے لیے انہیں پیدا کیا گیا ہے۔ ایک اور قسم کی ہدایت نباتات کے لیے ہے جس کی پیروی میں وہ زمین کے اندر اپنی جڑیں  نکالتے اور پھیلاتے ہیں ، اس کی تہوں سے پھوٹ کر نکلتے ہیں، جہاں جہاں اللہ نے ان کے لیے غذا پیدا کی ہے وہاں سے اس کو حاصل کرتے ہیں ، تنے، شاخیں، پتّیاں، پھل  پھول لاتے ہیں اور وہ کام پورا کرتے ہیں جو ان  میں سے  ہر ایک کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔ ایک اور قسم کی ہدایت خشکی ، تری اور ہوا کے حیوانات کی بے شمار انواع اور ان کے ہر فرد کے لیے جس کے حیرت انگیز مظاہر جانوروں کی زندگی  اور اُن کے کاموں میں عَلانیہ نظر آتے ہیں، حتیٰ کہ ایک دہریہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مختلف قسم کے جانوروں کو کوئی ایسا الہامی علم حاصل ہے جو انسان کو اپنے حواس تو درکنار ، اپنے آلات کے ذریعہ سے بھی حاصل نہیں ہوتا۔ پھر انسان کے لیے دو الگ الگ نو عیتوں کی ہدایتیں ہیں جو اس کی دو الگ حیثیتوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ایک وہ ہدایت جو اس کی حیوانی زندگی کے لیے ہے، جس کی بدولت ہر بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینا سیکھ لیتا ہے، جس کے مطابق انسان کی آنکھ ، ناک ، کان ، دل ، دماغ، پھیپھڑے ، گردے، جگر، معدہ، آنتیں، اعصاب، رگیں اور شریانیں، سب اپنا  اپنا کام کیے جا رہے ہیں بغیر اس کے کہ انسان کو اُس کا شعور  ہو یا اس کے ارادے کا اِن اعضاء کے کاموں میں کوئی دخل ہو۔ یہی ہدایت ہے جس کے تحت انسان کے اندر بچپن ، بلوغ، جوانی، کہولت اور بڑھاپے کے وہ سب جسمانی اور ذہنی تغیّرات ہوتے چلے جاتے ہیں جو اس کے ارادے اور مرضی ، بلکہ  شعور کے بھی محتاج نہیں ہیں۔ دوسری ہدایت انسان کی عقلی اور شعوری زندگی کے لیے ہے جس کی نوعیت غیر شعوری زندگی کی ہدایت سے قطعًا مختلف ہے، کیونکہ اِس شعبۂ حیات میں انسان کی طرف ایک قسم کا اختیار منتقل کیا گیا ہے جس کے لیے ہدایت کا وہ طریقہ موزوں نہیں ہے جو بے اختیارانہ زندگی  کے لیے موزوں ہے۔ انسان اِ س آخری قسم کی ہدایت سے منہ موڑنے کے لیے خواہ کتنی ہی حجّت بازیاں کرے ، لیکن یہ بات ماننے کے لائق  نہیں ہے کہ جس خالق نے اِس ساری کائنات میں ہر چیز کے لیے اس کی ساخت اور حیثیت کے مطابق ہدایت کا انتظام کیا ہے اُس نے انسان کے لیے یہ تقدیر تو بنادی ہو گی کہ وہ اس کی دنیا میں اپنے اختیار سے تصرُّفات کرے مگر اس کو یہ بتانے کا کوئی انتظام نہ کیا ہو گا کہ اس اختیار کے استعمال کی صحیح صورت کیا ہے  اور غلط صورت کیا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حواشی 5۶-14-1۰-9۔ جلد سوم ، طٰہٰ، حاشیہ 23۔ جلد پنجم، الرحمٰن، حواشی 3-2۔ جلد ششم، الدھر، حاشیہ5)۔  
  • [2] یعنی ہر چیز کے پیدا کرنے سے پہلے یہ طے کر دیا کہ اسے دنیا میں کیا کام کرنا ہے اور اُس کا م کے لیے اُس کی مِقدار کیا ہو، اُس کی شکل کیا ہو، اس کی صفات کیا ہوں، اس کا مقام کس جگہ ہو، اس کے لیے بقاء اور قیام اور فعل کے لیے کیا مواقع اور ذرائع فراہم کیے جائیں، کسی وقت وہ وجود میں آئے، کب تک اپنے حصے کا کام کرے اور کب کس طرح ختم ہو جائے۔ اِس پوری اسکیم کا مجموعی نام اُس کی  ”تقدیر“ ہے، اور یہ تقدیر اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کے لیے اور مجموعی طور پر پوری کائنات کے لیے بنائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تخلیق کسی پیشگی منصوبے کے بغیر کچھ یونہی الل ٹپ نہیں ہو گئی ہے بلہ اس کے لیے ایک پورا منصوبہ خالق کے پیش نظر تھا اور سب کچھ اس منصوبے کے مطابق ہو رہا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الِحجر، حواشی 14-13۔ جلد سوم، الفرقان، حاشیہ8۔ جلد پنجم، القمر، حاشیہ 25۔ جلد ششم، عبس، حاشیہ 12)۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]