Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Balad — Ayah 16

90:16
أَوۡ مِسۡكِينٗا ذَا مَتۡرَبَةٖ ١٦
یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا۔1
Footnotes
  • [1] اوپر چونکہ اُس کی فضول خرچیوں کا ذخر کیا گیا ہے جو وہ اپنی بڑائی کی نمائش اور لوگوں پر اپنا فخر جتانے کے لیے کرتا ہے، اس لیے اب اس کے مقابلے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کونسا خرچ اور مال کا کون سا مصرف ہے جو اخلاق کی پستیوں میں گرانے کے بجائے آدمی کو بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے ،مگر اُس میں نفس کی کوئی لذت نہیں ہے بلکہ آدمی کو اس کے لیے اپنے نفس پر جبر کرکے ایثار  اور قربانی سے کام لینا پڑتا ہے۔ وہ خرچ یہ ہے کہ آدمی کسی غلام کو خود آزاد کرے، یا اس کی مالی مدد کرے تاکہ وہ اپنا فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کر لے، یا کسی غریب کی گردن قرض کے جال سے نکالے، یا کوئی بے وسیلہ آدمی اگر تاوان کے بوجھ سے لد گیا ہو تو اس کی جان اُس سے چھُڑائے۔ اِسی طرح وہ خرچ یہ ہے کہ آدمی بھوک کی حالت میں کسی قریبی یتیم (یعنی رشتہ دار یا پڑوسی یتیم) اور کسی ایسے بے کس محتاج کو کھانا کھلائے جسے غربت و افلاس کی شدّت نے خا ک میں ملا دیاہو اور جس کی دستگیری کرنے والا کوئی نہ ہو ۔ ایسے لوگوں کی مدد  سے آدمی کی شہرت کے ڈنکے تو نہیں بجتے اور نہ ان کو کھلا کر آدمی کی دولت مندی اور دریا دلی کے وہ چرچے ہوئے ہیں جو ہزاروں کھاتے پیتے لوگوں کی شاندار دعوتیں کرنے سے ہوا کرتے ہیں، مگر اخلاق کی بلندیوں کی طرف جانے کا راستہ اِسی دشوار گزار گھاٹی سے ہو کر گزرتا ہے۔ اِن آیات میں نیکی کے جن کاموں کا ذکر کیا گیا ہے ، ان کے بڑے فضائل رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں بیان فرمائے ہیں۔ مثلاً فَکُّ رَقَبَۃٍ(گردن چھُڑانے) کے بارے میں حضور کی بکثرت احادیث روایات میں نقل ہوئی ہیں جن میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ ؓ  کی یہ روایت ہے کہ حضور ؐ  نے فرمایا جس شخص نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اُس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے شخص کے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے بچا لے گا، ہاتھ کے بدلے میں ہاتھ، پاؤں کے بدلے میں پاؤں، شرمگاہ کے بدلے میں شرمگاہ (مُسنَد احمد، بخاری، مسلم، تِرْمِذی، نَسائی)۔ حضرت  علی بن حسین ؓ (امام زین العابدین) نے اِس حدیث کے راوی سعد بن مَرجانہ سے پوچھا کیا تم نے ابو ہریرہ ؓ  سے یہ حدیث خود سُنی ہے؟ انہوں نے کہاں ہاں۔ اس پر امام زین العابدین نے اپنے سب سے زیادہ قیمتی غلام کو بلایا اور اُسی وقت اسے آزاد کر دیا۔ مسلم میں بیان کیا گیا ہے کہ اس غلام کے لیے اُن کو دس ہزار درہم قیمت مل رہی تھی۔ امام ابو حنیفہ اور امام شَعْبِی نے اِسی آیت کی بنا پر کہا ہے کہ غلام آزاد کرنا صدقے سے افضل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صدقے پر مقدّم رکھا ہے۔ مساکین کی مدد کے فضائل بھی حضور ؐ نے بکثرت احادیث میں ارشاد فرمائے ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیث ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا   السّاعی علی الارملۃ والمسکین کالساعی فی سبیل اللہ و احسبہ  قال کا لقائم لا یفترو کالصائم لا یفطر ”بیوہ اور مسکین کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا  ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا۔ (اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ) مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضور ؐ  نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ ایسا ہے جیسے وہ شخص جو نماز میں کھڑا  رہے اور آرام نہ لے اور وہ جو پے درپے روزے رکھے اور کبھی روزہ نہ چھوڑے“ (بخاری و مسلم)۔ یتامیٰ کے بارے میں تو حضور ؐ کے بے شمار ارشادات ہیں۔ حضرت سہل ؓ بن سعد کی روایت ہے کہ ”رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور وہ شخص جو کسی رشتہ دار یا غیر رشتہ دار یتیم کی کفالت کیرے، جنت میں اِس طرح ہوں گے۔ یہ فرما کر آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو اٹھا کر دکھایا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا“(بخاری)۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ  حضور ؐ  یا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ” مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے  جس میں کسی یتیم سے نیک سلوک ہو رہا ہو اور بدترین گھر وہ ہے  جس میں کسی یتیم سے برا سلوک ہو رہا ہو“(ابن ماجہ۔ بخاری فی الادب المفرد)۔  حضر ت ابو اُمامہ کہتے ہیں کہ حضور ؐ  نے فرمایا ”جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور محض اللہ کی خاطر پھیر ا اُس بچے کے ہر  بال کے بدلے  جس پر اس شخص کا ہاتھ گزرا اُس کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور جس نے کسی یتیم لڑکے  یا لڑکی کے ساتھ نیک برتاؤ کیا وہ اور میں جنت میں اِس طرح ہوں گے۔ اور یہ فرما کر حضور ؐ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتائیں(مُسند احمد ۔ تِرْمِذی)۔  ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ سرکار ؓ رسالتماب نے ارشاد فرمایا”جس نے کسی یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں شامل کیا  اللہ نے اس کے لیے جنت واجب کر دی الّا یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کر بیٹھا  ہو جو معاف نہیں کیا جا سکتا“(شرح السُّنہ)۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ  فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے شکایت کی کہ میرا دل سخت ہے۔ حضور ؐ نے فرمایا ”یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلا“(مُسنَد احمد)۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]