Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Layl — Ayah 13

92:13
وَإِنَّ لَنَا لَلۡأٓخِرَةَ وَٱلۡأُولَىٰ ١٣
اور درحقیقت آخرت اور دنیا، دونوں کے ہم ہی مالک ہیں۔1
Footnotes
  • [1] اس ارشاد کے کئی مفہوم ہیں اور وہ سب صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا سے آخرت تک تم کہیں بھی ہماری گرفت سے باہر نہیں ہو، کیونکہ دونوں جہانوں کے ہم ہی مالک ہیں۔ دوسرے یہ کہ ہماری مِلکیت دنیا اور آخرت دونوں پر بہر حال قائم ہے خواہ تم ہماری بتائی ہوئی راہ پر چلو یا نہ چلو۔ گمراہی اختیار کرو گے تو ہمارا کچھ نہ بگاڑ و گے،، اپنا ہی نقصان کر لو گے ، اور راہِ راست اختیار کرو گے تو ہمیں کوئی نفع نہ پہنچاؤ گے ، خود ہی اس کا نفع اٹھاؤ گے۔ تمہاری نافرمانی سے ہماری مِلک میں کوئی کمی نہیں ہو سکتی اور تمہاری فرمانبرداری سے اُس میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا ۔ تیسرے یہ کہ دونوں جہانوں کے مالک ہم ہی ہیں۔ دنیا چاہو گے تو وہ بھی ہم ہی سے تمہیں ملے گی اور آخرت کی بھلائی چاہو گے تو اُ س کا دینا بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے۔ یہی بات ہے  جو سورۂ آلِ عمران آیت 145 میں فرمائی گئی ہے کہ وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْ تِہٖ مِنْھَا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہ  مِنْھَا۔ ” جو شخص ثوابِ دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے اور جو ثوابِ آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا اس  کو ہم آخرت میں سے دیں گے“۔ اور اسی کو سورہ ٔ شوریٰ آیت2۰ میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْلَہٗ فِیْ حَرثِہ  وَمَنْ  کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْ تِہ  مِنْھَا وَمَا لَہٗ فِی الْاٰ خِرَ ۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ۔ ”  جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے  اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصّہ نہیں ہے“۔( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اوّل، آلِ عمران، حاشیہ 1۰5۔ جلد چہارم، الشوریٰ ، حاشیہ 37)۔