Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ad-Duhaa — Ayah 7

93:7
وَوَجَدَكَ ضَآلّٗا فَهَدَىٰ ٧
اور تمہیں ناواقفِ راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی۔1
Footnotes
  • [1] اصل میں لفظ ضَآلًّا استعمال ہوا ہے جو ضلالت سے ہے ۔ عربی زبان میں یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ اِس کے ایک معنی گمراہی کے ہیں ۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص راستہ نہ جانتا ہو اور ایک جگہ حیران کھڑا ہو کے مختلف راستے جو سامنے ہیں ان میں سے کِدھر جاؤں۔ ایک اور معنی کھوئے ہوئے کے ہیں، چنانچہ عربی محاورے میں کہتے ہیں ضَلَّ المَآ عُ فِی اللَّبَنِ، پانی دودھ میں گُم ہو گیا۔ اُس درخت کو بھی عربی میں ضَالّہ کہتے ہیں جو صحرا میں اکیلا کھڑا ہو اور آس پاس کوئی دوسرا درخت نہ ہو۔ ضائع ہونے کے لیے بھی ضلال کا لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً کوئی چیز نا مواقف اور ناسازگار حالات میں ضائع ہو رہی ہو۔ غفلت کے لیے بھی ضلال کا  لفظ استعمال ہوتا ہے، چنانچہ خود قرآن مجید میں اِس کی مثال موجود ہے کہ  لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی،(طٰہٰ۔52)۔ ”میرا ربّ نہ غافل ہوتا ہے نہ بھولتا ہے۔“ اِن مختلف معنوں میں سے پہلے معنی  یہاں چسپاں نہیں ہوتے ، کیونکہ بچپن سے قبلِ نبوّت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو  حالات تاریخ میں موجود ہیں اِن میں کہیں اِس بات کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا کہ آپ ؐ کبھی بُت پرستی ، شرک یا دُہریّت میں مبتلا ہوئے ہوں، یا جاہلیّت کے جو اعمال ، رسم اور طور طریقے آپ ؐ کی قوم میں پائے جاتے تھے ان میں سے کسی میں آپ ؐ ملوث ہوئے ہوں۔ اِس لیے لا محالہ  وَوَجَدَ کَ  ضَآلًّا  کے یہ معنی تو نہیں ہو سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو عقیدے یا عمل کے لحاظ سے گمراہ پایا تھا۔  البتہ باقی معنی کسی نہ کسی طور پر یہاں مراد ہو سکتے ہیں ، بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایک ایک اعتبار سے سب مراد ہوں۔ نبوّت سے پہلے حضور ؐ اللہ کی ہستی اور اُس کی وحدانیت کے قائل تو ضرور تھے،  اور آپ ؐ کی زندگی گناہوں سے پاک اور فضائل اخلاق سے آراستہ بھی تھی ، لیکن آپ ؐ کو دینِ حق اور اس کے اُصول  اور احکام کا علم نہ تھا،  جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے  مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ (الشوریٰ، آیت 52)۔ ”تم نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور نہ ایمان کی تمہیں کوئی خبر تھی“۔ یہ معنی بھی اس آیت کے ہو سکتے ہیں کہ حضور ؐ ایک  جاہلی معاشرے میں گُم ہو کر رہ گئے تھے اور ایک ھادی و رہبر ہونے کی حیثیت سے آپ ؐ کی شخصیت نبوت سے پہلے نمایاں نہیں ہو رہی تھی۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جاہلیت کے صحراء میں آپ ؐ  ایک  اکیلے درخت کی حیثیت سے کھڑے تھے جس میں پھل لانے اور ایک پورا باغ کا باغ پیدا کر دینے کی صلاحیت تھی مگر نبوت سے پہلے یہ صلاحیت کام نہیں آرہی تھی۔ یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو غیر معمولی قوتیں آپ ؐ  کو عطا کی تھیں وہ جاہلیت کے ناسازگار ماحول میں ضائع ہو رہی تھیں ۔ ضلال کو غفلت کے معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے ، یعنی آپ ؐ اُ ن حقائق اور علوم سے غافل تھے جن سے نبوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو آگاہ فرمایا ۔ یہ بات خود قرآن میں بھی ایک جگہ ارشاد ہوئی ہے: وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہ  لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ (یوسف3) ” اور اگرچہ تم  اِس سے پہلے اِن باتوں سے غافل تھے۔“(نیز ملاحظہ ہو البقرہ آیت 282، اور الشعراء آیت 2۰)۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]