Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Bayyinah — Ayah 1

98:1
لَمۡ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡبَيِّنَةُ ١
اہلِ کتاب اور مشرکین1 میں سے جو لوگ کافر تھے2 (وہ اپنے کُفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیلِ روشن نہ آجائے3
Footnotes
  • [1] یہاں کفر اپنے وسیع معنوں میں استعمال کیا گیا ہے جن میں کافرانہ رویّہ کی مختلف صورتیں شامل ہیں۔ مثلًا کوئی اِس معنی میں کافر تھا کہ سرے سے اللہ ہی کو نہ مانتا تھا۔ کوئی اللہ کو مانتا تھا مگر اسے واحد معبود نہ مانتا تھا بلکہ خدا کی ذات، یا خدائ کی صفات و اختیارات میں کسی نہ کسی طور پر دوسروں کو شریک ٹھیرا کر اُن کی عبادت بھی کرتا تھا۔ کوئی اللہ کی وحدانیت بھی مانتا تھا مگر اس کے باوجود کسی نوعیت کا شرک بھی کرتا تھا۔ کوئی خدا کو مانتا تھا مگر اس کے نبیوں کو نہیں مانتا تھا اور اُس ہدایت کو قبول کرنے کا قائل نہ تھا  جو انبیاء کے ذریعہ سے آئی ہے۔ کوئی کسی نبی کو مانتا تھا  اور کسی دوسرے نبی کا انکار کرتا  تھا۔ خوئی آخرت کا منکر تھا۔ غرض مختلف قسم کے کفر تھے جن میں لوگ مبتلا تھے۔ اور  یہ جو فرمایا   کہ   ” اہلِ کتاب اور مشرکین  میں سے جو لوگ  کافر تھے“ اِس  کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ کفر میں مبتلا  نہ تھے ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کفر میں مبتلا ہونے والے دو گروہ تھے ۔ ایک اہلِ کتاب ، دوسرے مشرکین ۔ یہاں مِنْ  تبعیض کے لیے نہیں بلکہ بیان کے لیے ہے۔ جس طرح سورۂ حج آیت 3۰ میں فرمایا گیا فَا جْتَنِبُوْ ا ا لرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بتوں کی گندگی سے بچو، نہ یہ کہ بتوں میں جو گندگی ہے اُس سے بچو۔ ا سی طرح اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ کا مطب  بھی یہ ہے کہ کفر کرنے والے جو اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے ہیں، نہ یہ کہ اِن دونوں گروہوں میں سے جو لوگ کفر کرنے والے ہیں۔
  • [2] یعنی اُن کے اِس حالتِ کفر سے نکلنے کی کوئی صورت اِس کے سوا نہ تھی کہ ایک دلیلِ روشن آکر اُنہیں کفر کی ہر صورت کا غلط اور خلافِ حق ہونا سمجھائے اور راہِ راست کو واضح اور مدلّل طریقے سے ان کے سامنے پیش کر دے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُس دلیل ِ روشن کے آجانے کے بعد وہ سب کفر سے باز آجانے والے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دلیل کی غیر موجودگی میں تو ان کا اِس حالت سے نکلنا ممکن ہی نہ تھا۔ البتہ اس کے آنے کے بعد بھی اُن میں سے جو لوگ اپنے کفر پر قائم رہیں اُس کی ذمہ داری پھر اُنہی پر ہے ، اس کےبعد وہ اللہ سے یہ شکایت نہیں کر سکتے کہ آپ نے ہماری ہدایت کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا ۔ یہ وہی بات ہے جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان کی گئی ہے ۔ مثلاً سُورۂ نحل میں فرمایا وَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ، ”سیدھا راستہ بتانا اللہ کے ذمّہ ہے“(آیت9)۔ سُورہ ٔ  لَیل میں فرمایا اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی، ”راستہ بتانا ہمارے ذمّہ ہے“(آیت12)۔ اِنَّآ اَوْ حَیْنَآ اَلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلیٰ نُوْحٍ وَّ النَّبِیِّیْنَ مِنْ م بَعْدِہ  ۔۔۔۔۔۔ رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِ رِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ، ”(اے نبی )  ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اُس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی ۔۔۔۔۔ اِن رسولوں کو بشارت دینے والا  اور خبردار کرنے والا بنایا گیا تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجّت نہ رہے“(النساء، 1۶5-1۶4)۔ یٰٓاَ ھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآ ءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلیٰ فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآ ءَ نَا مِنْم بَشِیْرٍ وَّلَا نَذِیْرٍ، فَقَدْ جَآءَکُمْ بَشِیْرٌ وَّنَذِیْرٌ،” اے اہلِ کتاب تا کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا  نہ خبردار کرنے والا۔ سو لو اب تمہارے پاس بشارت دینے والا اور  خبردار کرنے والا آگیا“(المائدہ۔19)۔
  • [3] کفر میں مشترک ہونے کے باوجود ان دونوں گروہوں کو دو الگ الگ ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ اہلِ کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس پہلے انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں میں سے کوئی کتاب، خواہ تحریف شدہ شکل ہی میں سہی، موجود تھی اور وہ اُسے مانتے تھے۔ اور مشرکین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی نبی  کے پیرو اور کسی کتاب کے ماننے والے نہ تھے ۔ قرآن مجید میں اگرچہ اہلِ کتاب کے شِرک کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا گیا ہے ۔ مثلاً عیسائیوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں کا ایک ہے(المائدہ، 73)۔ وہ مسیح ہی کو خدا کہتے ہیں (المائدہ، 17)۔ وہ مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں (التوبہ، 3۰)۔ اور یہود کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ عُزَیر کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں( التوبہ، 3۰) ۔ لیکن اس کے باوجود قرآن مجید میں کہیں اُن کے لیے  ”مشرک“ کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی بلکہ ان کا ذکر اہلِ کتاب یا  اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْ الْکِتٰبَ (جن کو کتاب دی گئی تھی)، یا یہود اور نصاریٰ کے الفاظ سے کیا گیا ہے ، کیونکہ وہ اصلِ دین توحید ہی کو مانتے تھے اور پھر شرک کرتے تھے۔ بخلاف اِس کے غیر اہل ِ کتاب کے لیے ”مشرک“ کا لفظ بطور اصطلاح استعمال کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اصلِ دین شرک ہی کو قرار دیتے  تھے اور توحید کے ماننے سے اُن کو قطعی انکار تھا۔ یہ فرق اِن دونوں گروہوں کے درمیان صرف اصطلاح ہی میں نہیں بلکہ شریعت  کے احکام میں بھی ہے۔ اہلِ کتاب کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے حلال کیا گیا ہے اگر وہ اللہ کا نام لے کر حلال جانور کو صحیح طریقہ سے ذبح کریں، اور ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے برعکس مشرکین کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح حلال۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]