Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Az-Zalzalah — Ayah 4

99:4
يَوۡمَئِذٖ تُحَدِّثُ أَخۡبَارَهَا ٤
اُس روز وہ اپنے (اُوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی،1
Footnotes
  • [1] حضرت ابو ہریرہ ؓ    کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر پوچھا ” جانتے ہو  اس کے وہ حالات کیا ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا  اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ فرمایا ” وہ حالات یہ ہیں کہ زمین پر بندے اور بندی کے بارے میں اُس عمل کی گواہی دے  گی جو اس کی پیٹھ پر اس نے کہا ہو گا۔ وہ کہے گی کہ اِ س نے فلاں دن فلاں کام کیا تھا۔ یہ ہیں وہ حالات جو زمین بیان کرے گی۔“(مُسند احمد ، تِرْمِذی، نَسائی، ابن جریر، عبد بن حُمید، ابن المُنْذر، حاکم، ابن مَرْدُوْیَہ، بِیْہَقی فی الشعب)۔  حضرت رَبیعۃ الخَرشی کی روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا ” ذرا زمین سے بچ کر رہنا  کیونکہ یہ تمہاری جڑ بنیا ہے اور اِس پر عمل کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے عمل کی یہ خبر نہ دے خواہ اچھا ہو یا بُرا“(مُعْجَم الطّبرَانی)۔ حضرت انس  بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے روز زمین ہر اُس عمل کو لے آئے گی جو اس کی پیٹھ پر کیا گیا ہو“ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائیں(ابن مَرْدُوْیَہ ۔ بیہقی)۔ حضرت علی  کے حالات میں لکھا ہے کہ جب آپ بیت المال  کا سب روپیہ اہلِ حقوق میں تقسیم کر کے اُسے خالی کر دیتے تو اس میں دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر فرماتے ”تجھے گواہی دینی ہو گی کہ میں نے تجھ کو حق کے ساتھ بھرا اور حق ہی  کے ساتھ خالی کر دیا“۔ زمین کے متعلق یہ بات کہ وہ قیامت کے راز اپنے اوپر گزرے ہوئے سب حالات اور واقعات بیان کر دے گی ، قدیم زمانے کے آدمی کے لیے تو بڑی حیران کُن ہو گی کہ آخر کیسے بولنے لگے گی، لیکن آج علومِ طبیعی کے اکتشافات اور سینما، لاؤڈاسپیکر، ریڈیو، ٹیلیویژن، ٹیپ ریکارڈر، الکٹرانِکس وغیرہ ایجادات کے اِس دور میں یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ زمین اپنے حالات کیسے بیان کرے گی۔ انسان  اپنی زبان سے جو کچھ بولتا ہے اُس کے نقوش ہوا میں، ریڈیائی لہروں میں ، گھروں کی دیواروں اور اُن کے فرش اور چھت کے ذرّے ذرّے میں، اور اگر کسی سڑک یا میدان یا کھیت میں آدمی نے بات کی ہو تو اُن سب کے ذرّات میں ثبت ہیں۔ اللہ تعالیٰ  جس وقت چاہے ان ساری آوازوں کو ٹھیک اسی طرح ان چیزوں سے دُہر وا سکتا ہے جس طرح کبھی وہ انسان کے منہ سے نکلی تھیں۔ انسان اپنے کانوں اُس وقت سن لے گا کہ یہ اُس کی اپنی ہی آواز یں ہیں۔ اور اس کے ساب جاننے والے پہچان لیں گے کہ جو کچھ وہ سُن رہے ہیں وہ اسی شخص کی آواز اور اسی کا لہجہ ہے۔ پھر انسان نے زمین پر جہاں جس حالت میں بھی کوئی کام کیا ہے اس کی ایک ایک حرکت کا عکس اُس کے گردو پیش کی تمام چیزوں پر پڑا ہے اور اس کی تصویر اُن پر نقش ہو چکی ہے۔ بالکل گھُپ اندھیرے میں بھی اُس نے کوئی فعل کیا ہو تو خدا کی خدائی میں ایسی شُعائیں موجود ہیں جن کے لیے اندھیرا اور اُجالا کوئی معنی نہیں رکھتا، وہ ہر حالت میں اس کی تصویر لے سکتی ہیں۔ یہ ساری تصویریں قیامت کے روز ایک متحرّک فلم کی طرح انسان کے سامنے آجائیں گی اور یہ دکھا دیں گی کہ وہ زندگی بھر کس وقت، کہاں کہاں کیا کچھ کرتا رہا ہے۔ حقیقت  یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کو براہِ راست خود جانتا ہے ، مگر آخرت میں جب وہ عدالت قائم  کرے گا  تو جس کو بھی سزا دے گا، انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے دے گا ۔ اُس کی عدالت میں ہر مجرم انسان کے خلاف جو مقدّمہ قائم کیا جائے گا اُس کو ایسی مکمّل شہادتوں سے ثابت کر دیا جائے گا کہ اس  کے مجرم ہونے میں کسی کلام کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ سب سے پہلے تو وہ نامۂ اعمال ہے جس میں ہر وقت اُس کے ساتھ لگے ہوئے کرامًا کاتبین اس کے ایک ایک قول اور فعل کا ریکارڈ درج کر رہے ہیں(قٓ، آیات 18-17۔ الانفِطار، آیات 1۰ تا 12)۔ یہ نامۂ اعمال  اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ پڑھ اپنا  کارنامۂ حیات ، اپنا حساب لینے کے لیے تو خود کافی ہے(بنی اسرائیل۔14)۔ انسان اسے پڑھ کر حیران رہ جائے گا کہ کوئی چھوٹی  یا بڑی چیز ایسی نہیں ہے جو اس میں ٹھیک ٹھیک درج نہ ہو(الکہف۔49)۔ اِس کے بعد انسان کا  اپنا جسم ہے جس سے اُس نے دنیا میں کام لیا ہے۔  اللہ کی عدالت میں اُس کی اپنی زبان شہادت دے گی کہ اُس سے وہ کیا کچھ بولتا رہا ہے ،  اس کے اپنے ہاتھ پاؤں شہادت دیں گے کہ ان سے سے کیا کیا کام اُس نے لیے(النور۔24)۔ اس کی آنکھیں شہادت دیں گی، اس کے کان شہادت دیں گے کہ ان سے اس نے کیا کچھ سُنا۔ اس کے جسم کی پوری  کھال اس کے افعال کی شہادت دے گی۔ وہ حیران ہوکر اپنے اعضا سے کہے گا کہ تم بھی میرے خلاف گواہی دے رہے ہو؟ اس کے اعضا جواب دیں گے کہ آج جس خدا کے حکم سے ہر چیز بول رہی ہے اسی کے حکم سے ہم بھی بول رہے ہیں(حٰم السجدہ۔2۰ تا 22)۔ اس پر مزید وہ شہادتیں ہیں جو زمین اوراس کے پورے ماحول سے پیش کی جائیں گی جن میں آدمی اپنی آوازیں خود اپنے کانوں سے، اور اپنی حرکات کی ہو بہو تصویریں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہ انسان کے دل میں جو خیالات ، ارادے اور مقاصد چھپے ہوئے تھے، اور جن نیتوں کے ساتھ اس نے سارے اعمال کیے تھے وہ بھی نکال کر سامنے رکھ دیے جائیں گے ، جیسا کہ آگے سُورۂ عادیات میں آرہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اِتنے قطعی اور صریح اور ناقابلِ انکار ثبوت سامنے آجانے کے بعد انسان دم بخود رہ جائے گا اور اُس کے لیے اپنی معذرت میں کچھ کہنے کا موقع باقی نہ رہے گا( المرسلٰت، آیات 3۶-35)۔  

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]