Maulana Muhammad Junagarhi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Maulana Muhammad Junagarhi translation for Surah Al-Qamar — Ayah 37

54:37
وَلَقَدۡ رَٰوَدُوهُ عَن ضَيۡفِهِۦ فَطَمَسۡنَآ أَعۡيُنَهُمۡ فَذُوقُواْ عَذَابِي وَنُذُرِ ٣٧
اور ان (لوط علیہ السلام) کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا1 پس ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں2، (اور کہہ دیا) میرا عذاب اور میرا ڈرانا چکھو.
Footnotes
  • [1] یا بہلایا یا مانگا لوط (عليه السلام) سے ان کے مہمانوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب لوط (عليه السلام) کی قوم کو معلوم ہوا کہ چند خوبر ونوجوان لوط (عليه السلام) کے ہاں آئے ہیں (جو دراصل فرشتے تھے اور ان کو عذاب دینے کے لیے ہی آئے تھے) تو انہوں نے حضرت لوط (عليه السلام) سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم اپنے بگڑے ہوئے ذوق کی ان سے تسکین کریں۔
  • [2] کہتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل میکائل اور اسرافیل (عليه السلام) تھے۔ جب انہوں نے بدفعلی کی نیت سے فرشتوں (مہمانوں) کو لینے پر زیادہ اصرار کیاتو جبرائیل (عليه السلام) نے اپنے پر کا ایک حصہ انہیں مارا، جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلےہی باہر نکل آئے، بعض کہتے ہیں ، صرف آنکھوں کی بصارت زائل ہوئی، بہرحال عذاب عام سے پہلے یہ عذاب خاص ان لوگوں کوپہنچا جو حضرت لوط (عليه السلام) کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ اور آنکھوں سے یا بینائی سے محروم ہو کر گھر پہنچے۔ اور پھر صبح اس عذاب عام میں تباہ ہو گئے جو پوری قوم کے لیے آیا (تفسیر ابن کثیر)۔