Tafsir As-Saadi - Urdu

Multiple Ayahs

Tags

Download Links

Tafsir As-Saadi - Urdu tafsir for Surah Al-Qalam — Ayah 48

فَذَرۡنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِۖ سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ ٤٤ وَأُمۡلِي لَهُمۡۚ إِنَّ كَيۡدِي مَتِينٌ ٤٥ أَمۡ تَسۡـَٔلُهُمۡ أَجۡرٗا فَهُم مِّن مَّغۡرَمٖ مُّثۡقَلُونَ ٤٦ أَمۡ عِندَهُمُ ٱلۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُونَ ٤٧ فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلۡحُوتِ إِذۡ نَادَىٰ وَهُوَ مَكۡظُومٞ ٤٨ لَّوۡلَآ أَن تَدَٰرَكَهُۥ نِعۡمَةٞ مِّن رَّبِّهِۦ لَنُبِذَ بِٱلۡعَرَآءِ وَهُوَ مَذۡمُومٞ ٤٩ فَٱجۡتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَجَعَلَهُۥ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ٥٠ وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزۡلِقُونَكَ بِأَبۡصَٰرِهِمۡ لَمَّا سَمِعُواْ ٱلذِّكۡرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُۥ لَمَجۡنُونٞ ٥١ وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ ٥٢

پس چھوڑیے مجھے اور اس کو جو جھٹلاتا ہے اس حدیث (قرآن) کو یقیناً ہم آہستہ آہستہ لے جائیں گے ان کو (تباہی کی طرف) اس طرح کہ وہ نہیں جانیں گے (44) اور ڈھیل دیتا ہوں میں ان کو، بلاشبہ میری تدبیر نہایت مضبوط ہے (45) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی اجر، پس وہ تاوان سے بوجھل ہیں؟ (46) کیا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ (اس سے) لکھتے ہیں؟ (47) پس آپ صبر کیجیے اپنے رب کے حکم کے لیے اور نہ ہوں آپ مانند (یونس)مچھلی والے کے جب اس نے پکارا (اللہ کو) جب کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا (48) اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پا لیا اس کو احسان نے اس کےرب کے، تو ضرور پھینکا جاتا وہ چٹیل میدان میں جبکہ وہ مذموم ہوتا(49) پس چن لیا اس کو اس کےرب نے اور (دوبارہ) کر دیا اس نے اس کو صالحین میں سے (50) اور تحقیق قریب ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ وہ پھسلادیں آپ کو اپنی تیز نظروں سے جب وہ سنتے ہیں ذکر (قرآن) اور وہ کہتے ہیں، بلاشبہ وہ ضرور دیوانہ ہے (51) اور نہیں ہے وہ (قرآن) مگر نصیحت جہانوں کے لیے (52)

[45,44] یعنی چھوڑو مجھے! مجھے قرآن کو جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو، ان کی جزا میرے ذمے ہے، ان کے لیے جلدی نہ مچا، پس ﴿ سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’عنقریب ہم انھیں تدریج کے ساتھ پکڑیں گے کہ انھیں معلوم بھی نہ ہوگا۔‘‘ ہم انھیں مال اور اولاد کی کثرت سے بہرہ مند کرتے ہیں، ہم ان کے رزق اور اعمال کو زیادہ کرتے ہیں تاکہ وہ فریب میں مبتلا رہیں اور ایسے کاموں پر جمے رہیں جو ان کو نقصان پہنچائیں گے۔ یہ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی چال ہے اور اپنے دشمنوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی چال بہت مضبوط اور طاقتور ہوتی ہے۔ جو ان کو نقصان پہنچانے اور سزا دینے میں بہت کارگر ہے۔
[46]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ اَجۡرًا فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ ان کے آپ سے دور بھاگنے اور آپ کی تصدیق نہ کرنے کا کوئی سبب نہیں جو اس کا موجب ہو کیونکہ آپ تو، ان کے مال میں سے کوئی تاوان لیے بغیر، جو ان پر بوجھ ہو، محض ان کے مصالح کی خاطر ان کو تعلیم دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں۔
[47]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ ان کے پاس غیب کا علم نہیں کہ وہ اس بات کو پا چکے ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ثواب سے بہرہ ور ہوں گے۔ یہ معاملہ جیسا بھی ہے۔ ان کا حال تو ایک معاند اور ظالم کا سا ہے۔
[50-48] پس اس کے سوا کچھ باقی نہیں کہ ان کی ایذا رسانیوں پر صبر کیا جائے اور جو کچھ ان سے صادر ہو رہا ہے اس پر تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور ان کو بار بار دعوت دی جائے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ فَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے شرعاً اور قدراً جو فیصلہ کیا ہے اس پر صبر کیجیے، حکم قدری یہ ہے کہ ایذا پر صبر کیا جائے، ناراضی اور بے صبری کے ساتھ ان کا سامنا نہ کیا جائے، حکم شرعی کو قبول کیا جائے، اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے اور اس کے امر کی اطاعت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَلَا تَكُنۡ كَصَاحِبِ الۡحُوۡتِ﴾ ’’او رمچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔‘‘ اور وہ ہیں یونس بن متیu یعنی اس حال میں حضرت یونسu کی مشابہت اختیار نہ کیجیے جو حال مچھلی کے پیٹ میں ان کے محبوس ہونے کا باعث بنا اور وہ ہے اپنی قوم پر ان کا عدم صبر جو آپ سے مطلوب تھا اور اپنے رب سے ناراض ہو کر جانا حتیٰ کہ آپ کشتی میں سوار ہوئے، جب کشتی بوجھل ہو گئی تو کشتی والوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ کشتی کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے، ان میں سے کس کو سمندر کے اندر پھینکا جائے۔ پس حضرت یونسu کے نام پر قرعہ پڑا ﴿ فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَهُوَ مُلِيۡمٌ﴾(الصافات:37/142)’’پس ان کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے۔‘‘﴿ اِذۡ نَادٰى وَهُوَ مَكۡظُوۡمٌ﴾ ’’یعنی انھوں نے پکارا جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے اور ان پر دروازہ بند کر دیا گیا تھا یا یہ کہ انھوں نے پکارا اور وہ ہم و غم سے لبریز تھے، چنانچہ کہا:﴿لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الأنبیاء:21؍87) ’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونسu کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ مچھلی نے انھیں جبکہ وہ بیمار تھے، چٹیل میدان میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر کدو کی بیل اگا دی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ تَدٰؔرَؔكَهٗ نِعۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالۡعَرَآءِ﴾ ’’اگر اس کے رب کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیے جاتے۔‘‘ یعنی انھیں چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا (اَلْعَرَاءِ) سے مراد (ہر قسم کی نباتات سے) خالی زمین ہے۔ ﴿ وَهُوَ مَذۡمُوۡمٌؔ﴾ ’’اور وہ برے حال میں تھے۔‘‘ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دیا، ان کو اس حال میں پھینک دیا گیا کہ وہ ممدوح تھے۔ اور ان کی یہ حالت پہلی حالت سے بہتر ہو گئی۔ ﴿فَاجۡتَبٰىهُ رَبُّهٗ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو منتخب کر لیا اور ان کو ہر کدورت سے پاک کر دیا ﴿ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ان کو نیکوکاروں میں سے کردیا۔‘‘ ، یعنی وہ لوگ جن کے اعمال و اقوال اور نیت و احوال درست ہیں۔
[52,51] ہمارے نبی ٔکریم حضرت محمد مصطفیﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی، پس اپنے رب کے فیصلے پر ایسا صبر کیا کہ کائنات میں کوئی شخص صبر کے اس درجے کو نہیں پا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انجام کار آپ کے لیے اور اہل تقویٰ کے لیے متعین کر دیا﴿وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الأعراف: 128/7)’’اور بہتر انجام متقین کے لیے ہے۔‘‘ آپ کے دشمنوں کو اس میں اس چیز کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا جو ان کو بری لگتی تھی حتیٰ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ آپ کو غصے کی نظر سے گھور کر دیکھیں، حسد، کینہ اور غیظ و غضب کی بنا پر آپ کو نظر لگا دیں۔یہ تھی اذیت فعلی میں ان کی انتہائے قدرت، اور اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر تھا۔ رہی اذیت قولی تو جو جی میں آتا تھا اس کے مطابق مختلف باتیں کہتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ یہ مجنون ہے کبھی کہتے تھے شاعر ہے اور کبھی کہتے تھے جادوگر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم جہان والوں کے لیے نصیحت کے سوا کچھ نہیں جس کے ذریعے سے وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں نصیحت حاصل کرتے ہیں … اور ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔

Tafsir Resource

QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats. Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>, <i>, etc.

Example JSON Format:

{
  "2:3": {
    "text": "tafisr text.",
    "ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
  },
  "2:4": "2:3"
}
  • Keys in the JSON are "ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means 3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
  • The value of ayah key can either be:
    • an object — this is the main tafsir group. It includes:
      • text: the tafsir content (can include HTML)
      • ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies to
    • a string — this indicates the tafsir is part of a group. The string points to the ayah_key where the tafsir text can be found.

SQLite exports includes the following columns

  • ayah_key: the ayah for which this record applies.
  • group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
  • from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).
  • ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.
  • text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.