Tafsir As-Saadi
55:35 - 55:36

چھوڑا جائے گا تم پر دونوں شعلہ ٔ آتش اور دھواں پس نہیں بچ سکو گے تم دونوں (عذاب سے)(35) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (36)

[35، 36] یعنی تم پر آگ کے صاف شعلے چھوڑے جائیں گے۔ ﴿وَ نُحَاسٌ﴾ ’’اور دھواں۔‘‘ اور یہ ایسے شعلے ہوں گے کہ ان میں دھواں ملا ہوا ہوگا۔معنیٰ یہ ہے کہ یہ دونوں قبیح چیزیں تم پر چھوڑی جائیں گی جو تمھیں گھیر لیں گی، پس تم خود مدد کر سکو گے نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور تمھاری مدد کر سکے گا۔ چونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخویف، اس کی طرف سے ان کے لیے ایک نعمت اور ایک کوڑا ہے جو انھیں بلند ترین مقاصد اور بہترین مواہب کے حصول کے لیے رواں دواں رکھتا ہے۔ اس لیے اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’ پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘