چور مرد اور چور عورت پس کاٹ دو ہاتھ ان دونوں کے، بدلے میں اس کے جو انھوں نے کمایا، عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ غالب حکمت والا ہے(38) پھر جس نے توبہ کر لی بعد اپنے ظلم کے اور اصلاح کر لی تو اللہ توجہ فرماتا ہے اس پر بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(39) کیا نہیں علم ہوا آپ کو کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، وہ عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور مغفرت کرتا ہے جس کی چاہتا ہےاور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(40)
[38]چور اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دایاں ہاتھ کاٹنا۔ جیسا کہ بعض صحابہy کی قراء ت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہو جائیں اور خون رک جائے۔سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔(۱)حفاظت: چوری کے اطلاق کے لیے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے جو عادتاً کی جاتی ہے۔ چور نے اگر کسی ایسے مال کی چوری کی ہو جو حفاظت میں نہ ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔(۲) نصاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے مال مسروقہ کا نصاب ضروری ہے۔ یہ نصاب کم از کم ایک چوتھائی دینار یا تین درہم یا ان میں سے کسی ایک کے برابر۔ مال مسروقہ اگر اس نصاب سے کم ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ شاید یہ لفظ سرقہ اور اس کے معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ لفظ ’’سرقہ‘‘ سے مراد ہے کوئی چیز اس طریقے سے لینا جس سے احتراز ممکن نہ ہو اور یہ اسی وقت ہی ہوگا کہ مال کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو۔ اگر مال کو حفاظت کے ساتھ نہ رکھا گیا تو اس مال کا لینا شرعی سرقہ کے زمرے میں نہیں آئے گا۔یہ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ تھوڑی اور حقیر سی شے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ چونکہ قطع ید کے لیے کم ترین نصاب مقرر کرنا ضروری ہے، اس لیے نصاب شرعی ہی کتاب اللہ کی تخصیص کرنے والا ہو گا۔ چوری میں ہاتھ کاٹنے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے مال محفوظ ہو جاتے ہیں اور اس عضو کو بھی کٹ جانا چاہیے جس سے جرم صادر ہوا ہے۔ دایاں ہاتھ کاٹ دیے جانے کے بعد اگر چور دوبارہ چوری کا ارتکاب کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر پھر چوری کرے تو بعض کہتے ہیں کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اس کو قید کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مر جائے۔ ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا ﴾ ’’یہ بدلہ ہے اس کا جو انھوں نے کمایا‘‘ یعنی یہ قطع ید، چور کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے لوگوں کا مال چرایا ہے ﴿ نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے‘‘ یعنی یہ سزا چور اور دیگر لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہے کیونکہ چوروں کو جب معلوم ہو گا کہ چوری کے ارتکاب پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو وہ چوری سے باز آ جائیں گے ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ زبردست، صاحب حکمت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اس لیے اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔
[39]﴿ فَمَنۡ تَابَ مِنۢۡ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’پس جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے توبہ اس کی، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ پس جو کوئی توبہ کرتا ہے، گناہوں کو ترک کر کے اپنے اعمال اور اپنے عیوب کی اصلاح کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔
[40] اور یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے زمین اور آسمان میں تکوینی اور شرعی تصرف کرتا ہے اور اپنی حکمت، بے پایاں رحمت اور مغفرت کے تقاضے کے مطابق وہ بخشتا ہے یا سزا دیتا ہے۔