Tafsir As-Saadi
50:6 - 50:11

کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے آسمان کی طرف اپنے اوپر (کہ) کیسا بنایا ہم نے اس کو اور ہم نے مزین کیا اسے اور نہیں اس میں کوئی شگاف؟(6) اور زمین کو، پھیلایا ہم نے اسے، اور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑ، اور ہم نے اگائی اس میں ہر ایک قسم خوشنما(7) بطور بصیرت اور نصیحت کے ہر اس شخص کے لیے جو رجوع کرنے والا ہے(8) اور نازل کیا ہم نے آسمان سے پانی بابرکت، پھر ہم نے اگائے اس کے ذریعے سے باغات اور اناج (اور غلے) کاٹی جانے والی (کھیتی) کے(9) اور کھجوریں بلند و بالا، ان کے شگوفے ہیں تہ بہ تہ (10) روزی کے لیے بندوں کی اور ہم نے زندہ کیا اس (پانی) کے ذریعے سے ایک شہر مردہ (بنجر زمین) کو، اسی طرح (قبروں سے) نکلنا ہے (11)

[6] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کا حال اور ان کے قابل مذمت افعال کا ذکر کرنے کے بعد، انھیں آیات آفاقیہ میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ان امور پر استدلال کریں جن کے لیے ان کو دلیل بنایا ہے، فرمایا:﴿ اَفَلَمۡ يَنۡظُرُوۡۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوۡقَهُمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟‘‘ یعنی غور و فکر کی یہ نظر کسی مشقت اور سامانِ سفر باندھنے کی محتاج نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔ وہ دیکھیں ﴿ كَيۡفَ بَنَيۡنٰهَا﴾ کہ ہم نے اسے کیسے ایک گنبد بنایا، جو اپنے کناروں پر برابر اور مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جسے ان ستاروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چلتے چلتے غائب ہو جاتے ہیں، جو ایک افق سے دوسرے افق تک اپنے حسن اور ملاحت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے، تو اس میں کوئی سوراخ دیکھے نہ شگاف اور نہ تجھے اس میں کوئی خلل نظر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اہل زمین کے لیے چھت بنایا ہے اور اس کے اندر ان کے لیے ضروری مصالح ودیعت کیے ہیں۔
[7]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ طرف ﴿ الۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا﴾ ’’زمین کی‘‘ دیکھیں کہ کیسے ﴿مَدَدۡنَهَا﴾ ’’ہم نے اسے کشادہ بنایا ہے؟‘‘ حتیٰ کہ ہر حیوان کے لیے سکون و قرار اور اس کے تمام مصالح اور استعداد کو ممکن بنایا، اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا کہ وہ نہ ہلے اور ٹھہری رہے ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۭ بَهِيۡجٍ﴾ انسانوں اور جانوروں کی خوراک اور ان کے فائدے کے لیے نباتات کی اصناف میں سے ہر صنف اگائی، جو دیکھنے والوں کو بھلی لگتی اور خوش کرتی ہے اور اس کا نظارہ کرنے والے کی آنکھ ٹھنڈی ہوتی ہے.
[11-8] اور ان فوائد میں سے ان باغات کا خاص طور پر ذکر کیا جو لذیذ پھلوں پر مشتمل ہوتے ہیں، مثلاً: انگور، انار، لیموں اور سیب وغیرہ اور دیگر پھلوں کی تمام اقسام، نیز کھجور کے لمبے لمبے درخت، جن کا فائدہ بھی بہت طویل اور دیر پا ہوتا ہے۔ جو آسمان میں اتنے بلند ہو جاتے کہ بہت سے درخت اس بلندی تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہ تہ بہ تہ گابھے میں سے گچھوں کی صورت میں ایسا پھل نکالتے ہیں جو بندوں کے لیے رزق، خوراک، سالن اور میوہ ہے۔ جسے وہ کھاتے ہیں اور اپنے اور اپنے مویشیوں کے لیے ذخیرہ کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس بارش اور ان عوامل کے ذریعے سے، جس کے نتیجے میں روئے زمین پر دریا بہتے ہیں اور اس کے نیچے ﴿حَبَّ الۡحَصِيۡدِ﴾کھیتی کا اناج ہوتا ہے، یعنی وہ کھیتی جسے پکنے پر کاٹا جاتا ہے، مثلاً: گیہوں، جو، مکئی، چاول اور باجرہ وغیرہ۔کیونکہ ان اشیاء میں غور و فکر کرنے میں ﴿ تَبۡصِرَةً﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ جس کے ذریعے سے بندہ جہالت کے اندھے پن میں بصیرت حاصل کرتا ہے ﴿وَّذِكۡرٰى﴾ ’’اور یاد دہانی ہے‘‘ جس سے نصیحت حاصل کرتا ہے جو دین و دنیا میں اسے فائدہ دیتی ہے اور اس کے ذریعے سے وہ ان امور میں نصیحت حاصل کرتا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے خبر دی ہے، اور اس سے ہر شخص بہرہ مند نہیں ہوتا بلکہ ﴿ لِكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ﴾ صرف وہی بندہ بہرہ مند ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا، حق اور خوف و رجا کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرنے والا اور اس کے داعی کی آواز پر لبیک کہنے والا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس نصیحت کو جھٹلاتا اور اس سے روگردانی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور تنبیہ کرنے والے اسے کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اس زمین پر جو بڑی بڑی مخلوق ، قوت، اور شدت کا وجود ملتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے، اور اس میں جو حسن، مہارت، نادر صنعت کاری اور بے مثال تخلیق پائی جاتی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کے اندر بندوں کے لیے جو فوائد اور مصالح پنہاں ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے جو ہر چیز پر وسیع اور اس کے جود و کرم کی دلیل ہے، جو ہر زندہ کے لیے عام اور سب کو شامل ہے۔ اس کے اندر جو بڑی بڑی مخلوق اور بے مثال نظام ہے وہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی واحد، یکتا اور بےنیاز ہے، جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا، اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے۔ یہ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی عبادت، تذلل، اور محبت کے لائق نہیں۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد جو اسے زندگی عطا ہوتی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالٰی مردوں کو زندہ کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَاَحۡيَيۡنَا بِهٖ بَلۡدَةً مَّؔيۡتًا١ؕ كَذٰلِكَ الۡخُرُوۡجُ﴾ ’’اور ہم نے اس (پانی) کے ذریعے سے مردہ شہرکو زندہ کیا بس اسی طرح (قیامت کے دن) نکل پڑنا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو سماوی ارضی اور آیات کے ذریعے سے نصیحت کرنے کے بعد قوموں کو گرفت میں لینے والے عذاب سے ڈرایا کہ وہ تکذیب کے رویے پر جمے نہ رہیں، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب ٹوٹ پڑے گا جو ان کے تکذیب کرنے والے بھائیوں پر ٹوٹ پڑا تھا۔ فرمایا: