Tafsir As-Saadi
57:12 - 57:15

اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15)

[12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔
[13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔
[14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔
[15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘