اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم ان لوگوں کو، جنھوں نے بنا لیا تمھارے دین کو ہنسی اور کھیل، ان لوگوں میں سے کہ دیے گئے وہ کتاب پہلے تم سےاور نہ کافروں کو، (اپنا) دوست۔ اور ڈرو اللہ سے اگر ہو تم مومن(57) اور جب تم پکارتے ہو طرف نماز کی تو بنا لیتے ہیں وہ اسے ہنسی اور کھیل یہ اس سبب سے کہ ہیں وہ لوگ نہیں عقل رکھتے(58)
[58,57] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں ، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام ... جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا .... کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ مسلمان ان سے دوستی کی بجائے دشمنی رکھیں ۔ یہ لوگ دین اسلام میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں ۔ اسلام کے ساتھ استہزا کرتے اور تمسخر اڑاتے ہیں اور دین کی تحقیر کرتے ہیں خصوصاً نماز کے بارے میں جو کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا شعار اور سب سے بڑی عبادت ہے۔ جب مسلمان نماز کے لیے اذان دیتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کا سبب ان کی کم عقلی اور جہالت ہے۔ ورنہ اگر ان میں عقل ہوتی تو وہ نماز کی افادیت کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے اور انھیں معلوم ہو جاتا کہ نماز ہی ان فضائل میں سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے نفوس انسانی متصف ہوتے ہیں ۔پس اے مومنو! جب تمھیں کفار کا حال معلوم ہے اور تمھیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ تمھارے اور تمھارے دین کے ساتھ کتنی شدید عداوت رکھتے ہیں جو کوئی اس صورتحال کے بعد بھی انھیں اپنا دشمن نہیں سمجھتا تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اسلام اس کے نزدیک بہت سستی چیز ہے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کوئی اس میں طعن و تشنیع کرتا ہے یا اسے کفر اور ضلالت قرار دیتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کے اندر مروت اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ آپ اپنے لیے دین قیم کا کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں اور کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام دین حق ہے اور اس کے سوا تمام ادیان باطل ہیں جبکہ حال یہ ہے کہ آپ ان جاہل اور احمق لوگوں کی موالات پر راضی ہیں جو آپ کے دین کے ساتھ استہزا کرتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں ؟ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب ہے اور یہ بات ہر اس شخص کو معلوم ہے جو ادنیٰ سا بھی فہم رکھتا ہے۔