Tafsir As-Saadi
58:14 - 58:19

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19)

[14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔
[16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
[17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔
[19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔