Tafsir As-Saadi
13:33 - 13:34

کیا پس وہ ذات جو نگہبان ہے ہر نفس پر، ساتھ اس کے جو اس نے کمایا (مانند اس کے ہے جو ایسا نہیں ؟) اور بنائے انھوں نے اللہ کے لیے شریک، کہہ دیجیے، تم نام تو لو ان کےبلکہ تم خبر دیتے ہو اللہ کو ان چیزوں کی کہ نہیں جانتا وہ (انھیں ) زمین میں ؟بلکہ (تم شریک قرار دیتے ہو ان کو) ظن باطل سےبلکہ مزین کر دیا گیا واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، مکران کااور وہ روکے گئے راہ حق سےاور جسے گمراہ کرے اللہ تو نہیں ہے واسطے اس کے کوئی بھی ہدایت دینے والا (33) ان کے لیے عذاب ہے زندگانی دنیا میں اور البتہ عذاب آخرت کا سخت ترین ہے اور نہیں ہے واسطے ان کے اللہ (کے عذاب) سے (کوئی بھی) بچانے والا (34)

[33]﴿ اَفَمَنۡ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’تو کیا جو ہر متنفس کے اعمال کانگران ہے۔‘‘ یعنی کیا وہ ہستی جو دنیاوی اور اخروی جزا اور عدل و انصاف کے ساتھ ہر متنفس کے عمل کو دیکھ رہی ہے… اور وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ… اس ہستی کی مانند ہو سکتی ہے جو اس جیسی نہیں ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَؔكَآءَ﴾ ’’اور انھوں نے اللہ کے شریک ٹھہرا لیے‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ یکتا اور بے نیاز ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ ہمسر اور نظیر۔ ﴿ قُلۡ ﴾ اگر وہ سچے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے ﴿ سَمُّوۡهُمۡ﴾ ’’ان کے نام لو‘‘ تاکہ ہمیں ان کا حال معلوم ہو ﴿ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں ‘‘ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ غائب اور حاضر ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کے علم میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کی شریک ہو تو ان کے اس دعویٰ کا بطلان واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے اور تم اس شخص کی مانند ہو جو اللہ تعالیٰ کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس کا کوئی شریک ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہے اور یہ باطل ترین قول ہے اس لیے فرمایا: ﴿ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ﴾’’یا کرتے ہو اوپر ہی اوپر باتیں ‘‘ تمھارے دعویٰ، کہ اللہ تعالیٰ کا شریک ہے، کی انتہا یہ ہے کہ یہ تمھاری خالی خولی باتیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام کائنات میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو کچھ بھی عبادت کی مستحق ہو۔﴿ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مَكۡرُهُمۡ ﴾ ’’بلکہ خوب صورت کر دیے گئے ہیں کافروں کے لیے ان کے فریب‘‘ وہ چال جو انھوں نے چلی، یعنی ان کا کفر، شرک اور آیات الٰہی کو جھٹلانا ﴿ وَصُدُّوۡا عَنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور وہ (ہدایت کے) راستے سے روک لیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی انھیں صراط مستقیم سے روک دیا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کر دے اللہ، اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ‘‘ کیونکہ کسی کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔
[34]﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَقُّ﴾ ’’ان کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے‘‘ یعنی آخرت کا عذاب اپنی شدت اور دوام کی بنا پر دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّاقٍ ﴾ ’’اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے، جب اس کے عذاب کا رخ ان کی طرف پھیر دیا جائے گا تو اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔