(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔(1) تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو پالنے والا ہے سارے جہانوں کا(2) نہایت مہربان بڑا رحم کرنے والا(3) مالک ہے یوم جزا کا (4)تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں(5) دکھا ہم کو راستہ سیدھا(6) راستہ ان لوگوں کا کہ انعام کیا تونے ان پر، وہ جو نہیں غصہ کیا گیا ان پر اور نہ وہ جو گمراہ ہیں(7)
[1] یعنی میں اللہ تعالیٰ کے ہر نام سے ابتدا کرتا ہوں کیونکہ لفظ ’’اسم‘‘ مفرد اور مضاف ہے جو تمام اسمائے حسنیٰ کو شامل ہے۔ ﴿اللّٰه﴾ وہ ذات ہے جو بندگی کے قابل اور معبود ہے، وہ اکیلا ہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ الوہیت کی صفات سے متصف ہے اور وہ صفات کمال ہیں۔ ﴿الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ دو نام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بے پایاں اور عظیم رحمت کا مالک ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ہر زندہ چیز کے لیے عام ہے اور اللہ تعالیٰ نے اصحاب تقویٰ اور اپنے انبیاء و رسل کے پیروکاروں کے لیے اس رحمت کو لازم کر دیا ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے رحمت مطلقہ ہے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے اس کی رحمت میں سے کچھ حصہ ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور احکام صفات پر ایمان لانا ایمانیات کے ان قواعد میں شمار ہوتا ہے جن پر تمام سلف اور ائمہ امت متفق ہیں، مثلاً وہ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رحمن ہے، رحیم ہے اور رحمت کا مالک ہے جس سے وہ متصف ہے اور اس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن پر رحم کیا جاتا ہے۔ پس تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں۔ اور یہی اصول تمام اسمائے حسنیٰ میں جاری ہے جیسے ( اَلْعَلِیْم) کے بارے میں کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ علیم اور صاحب علم ہے اور اس علم کے ذریعے سے ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ قدیر یعنی صاحب قدرت ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔
[2]﴿اَلۡحَمۡدُلِلّٰهِ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کے ان افعال کی ثنا ہے جو فضل و عدل کے درمیان دائر ہیں۔ پس ہر پہلو سے کامل حمد کا مالک وہی ہے۔ ﴿رَبِّ الۡعَالَمِيۡنَ﴾ ’’جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘ ﴿رَبِّ﴾ وہ ہستی ہے جو تمام جہانوں کی مربی ہے۔ ﴿الۡعَالَمِيۡن﴾ سے مراد اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق ہے۔ پہلے اس نے اس کو پیدا کیا، ان کے لیے ان کی زندگی کا سروسامان مہیا کیا اور پھر انھیں اپنی ان عظیم نعمتوں سے نوازا کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو ان کے لیے زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا۔ پس مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے۔ مخلوق کے لیے اللہ تعالیٰ کی تربیت (پرورش کرنے) کی دو قسمیں ہیں: (۱) تربیت عامہ (۲) تربیت خاصہ تربیت عامہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا، ان کو رزق بہم پہنچایا اور ان مفادات و مصالح کی طرف ان کی راہ نمائی کی جن میں ان کی دنیاوی زندگی کی بقا ہے۔ تربیت خاصہ وہ تربیت ہے جو اس کے اولیاء کے لیے مخصوص ہے پس وہ ایمان کے ذریعے سے ان کی تربیت کرتا ہے، انھیں ایمان کی توفیق سے نوازتا اور ان کی تکمیل کرتا ہے وہ ان سے ان تمام امور کو دور کرتا ہے جو راہ حق پر چلنے سے انھیں باز رکھتے ہیں اور ان تمام رکاوٹوں کو ہٹاتا ہے جو ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حائل ہوتی ہیں۔ تربیت خاصہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے ہر بھلائی کی توفیق ملتی اور ہر برائی سے حفاظت نصیب ہوتی ہے۔ شاید یہی معنی انبیائے کرام علیہ السلام کی دعاؤں کا سر نہاں ہے کہ ان میں اکثر ’’رب‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ انبیائے کرام کی فریادیں تمام کی تمام اللہ تعالیٰ کی ربوبیت خاصہ کے تحت آتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿رَبِّ الۡعَالَمِيۡنَ﴾ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا ہے۔ وہ اکیلا ہی ان کی تدبیر کرتا ہے اور اسے کمال بے نیازی حاصل ہے اور تمام عالم ہر پہلو اور ہر اعتبار سے اس کا محتاج ہے۔
[4]﴿مٰالِكِ يَوۡمِ الدِيّنِ﴾ ’’وہ جزا کے دن کا مالک ہے‘‘ (اَلْمَالِک) وہ ہستی ہے جو ملک کی صفت سے متصف ہو۔ جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ ہستی حکم دیتی ہے اور روکتی ہے، نیکی پر ثواب عطا کرتی ہے اور گناہوں پر سزا دیتی ہے، وہ اپنی مملوکات میں ہر قسم کا تصرف کرتی ہے اور اس کی ملکیت کی اقسام میں سے ایک جزا کا دن بھی ہے اور وہ قیامت کا دن ہے۔ جس دن لوگوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، اس لیے اس روز اللہ تعالیٰ کی ملکیت کاملہ اور اس کا عدل اور حکمت مخلوق پر بالکل ظاہر ہو جائے گی اور یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ مخلوق کے اختیارات میں کچھ نہیں ہے، حتی کہ اس دن بادشاہ اور رعایا اور غلام اور آزاد سب برابر ہوں گے۔ اس روز تمام مخلوق اس کی عظمت و عزت کے سامنے سرنگوں اور سرفگندہ ہوگی۔ تمام لوگ اس کی سزا و جزا کے فیصلے کے منتظر ہوں گے، اس کے ثواب کے امیدوار اور اس کی سزا سے خائف ہوں گے۔ اسی بنا پر اس نے خاص طور پر اس دن کی ملکیت کا ذکر کیا ہے ورنہ قیامت کے دن اور دیگر دنوں کا وہی مالک ہے۔
[5]﴿اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾ ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں‘‘ یعنی تجھ اکیلے ہی کو ہم عبادت اور استعانت کے لیے مخصوص کرتے ہیں کیونکہ (نحوی قاعدے کے مطابق) معمول کا اپنے عامل سے پہلے آنا حصر کے معنی پیدا کرتا ہے اور حصر سے مراد صرف مذکور کے لیے حکم کا اثبات اور اس کے سوا کسی اور کے لیے اس حکم کی نفی کرنا ہے۔ گویا بندہ کہتا ہے۔ ’’ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تیرے سوا کسی سے مدد کے طلبگار نہیں ہوتے۔‘‘ عبادت کو استعانت پر مقدم کرنا عام کو خاص پر مقدم کرنے کی نوع میں سے ہے، نیز اللہ تعالیٰ کے حق کو بندے کے حق پر مقدم کرنے کا اہتمام ہے۔ ’’عبادت‘‘ ایک ایسا اسم ہے جو ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال و اقوال کا جامع ہے جن کو اللہ پسند کرتا ہے اور جن سے وہ راضی ہوتا ہے۔ (اِسْتِعَانَۃ)کا مطلب، جلب منافع اور دفع ضرر کے حصول میں پورے وثوق کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ کرنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا قیام اور منافع کے حصول اور نقصان کے ازالے میں صرف اسی سے مدد کا طلبگار ہونا ابدی سعادت کا وسیلہ اور تمام برائیوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ پس نجات کا راستہ یہی ہے کہ عبادت بھی صرف ایک اللہ کی کی جائے اور مدد بھی صرف اسی سے مانگی جائے۔ اور عبادت اس وقت تک عبادت نہیں جب تک کہ اسے رسول اللہﷺسے حاصل نہ کیا گیا ہو اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا نہ ہو۔ ان دو امور کے وجود سے عبادت متحقق ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’استعانت‘‘ کو ’’عبادت‘‘ کے بعد ذکر کیا ہے حالانکہ استعانت عبادت میں داخل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بندہ اپنی تمام عبادات میں اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد نہ فرمائے تو بندہ اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کی منہیات سے اجتناب نہیں کر سکتا۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِهۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی فرما اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق سے ہمیں نواز۔ (صراط مستقیم) سے مراد وہ واضح راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔ یہ معرفت حق اور اس پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے۔ پس اس راستے کی طرف راہ نمائی فرما اور اس راستے میں ہمیں اپنی راہ نمائی سے نواز۔ صراط مستقیم کی طرف راہ نمائی کا مطلب، دین اسلام کو اختیار کرنا اور اسلام کے سوا دیگر تمام ادیان کا ترک کر دینا ہے اور صراط مستقیم میں راہ نمائی سے نوازنے کے معنی یہ ہیں کہ تمام دینی معاملات میں علم و عمل کے اعتبار سے ہماری صحیح اور مکمل راہ نمائی فرما۔ لہٰذا یہ دعا سب سے زیادہ جامع اور بندۂ مومن کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ بنا بریں انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنی نماز کی ہر رکعت میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کیونکہ وہ اس کا ضرورت مند ہے۔
[7] یہ صراط مستقیم نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کا راستہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا یہ ﴿اَلۡمَغۡضُوبِ عَلَيۡهِمۡ﴾ لوگوں کا راستہ نہیں، جن پر غضب نازل ہوا، جنھوں نے حق کو پہچان کر بھی اسے ترک کر دیا، مثلاً یہود وغیرہ۔ اور نہ یہ ﴿الضَّآلِّيۡنَ﴾ یعنی گمراہ لوگوں کا راستہ ہے جنھوں نے نصاریٰ کی مانند حق کو ترک کر کے جہالت اور گمراہی کو اختیار کیا۔ پس یہ سورت اپنے ایجاز و اختصار کے باوجود ایسے مضامین پر مشتمل ہے جو قرآن مجید کی کسی اور سورت میں نہیں پائے جاتے۔ سورۂ فاتحہ توحید کی اقسام ثلاثہ کو متضمن ہے۔ ۱۔ توحید ربوبیت : اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿رَبِّ الۡعَالَمِيۡنَ﴾سے ماخوذ ہے۔ ۲۔ توحید الوہیت : یعنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق سمجھنا۔ لفظ ’’اللہ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنَ﴾ سے ماخوذ ہے۔ ۳۔ توحید اسماء و صفات : توحید اسماء و صفات سے مراد ہے کہ بغیر کسی تعطیل، تمثیل اور تشبیہ کے اللہ تعالیٰ کے لیے ان صفات کمال کا اثبات کرنا جن کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے اور رسول اللہﷺنے ثابت کیا ہے اور اس پر لفظ (اَلْحَمْدُ) دلالت کرتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِهۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ﴾ اثبات نبوت کو متضمن ہے کیونکہ سیدھے راستے کی طرف راہ نمائی نبوت و رسالت کے بغیر ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مٰالِكِ يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾سے اعمال کی جزا و سزا ثابت ہوتی ہے، نیز یہ جزا و سزا عدل و انصاف سے ہوگی کیونکہ ’’دین‘‘ کے معنی ہیں، عدل کے ساتھ بدلہ دینا۔ اور سورۂ فاتحہ تقدیر کے اثباتکو بھی متضمن ہے، نیز اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ بندہ ہی درحقیقت فاعل ہے۔ قدریہ اور جبریہ کے نظریات کے برعکس۔ بلکہ ﴿اِهۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ﴾ تمام اہل بدعت و ضلالت کی تردیدکو متضمن ہے کیونکہ صراط مستقیم سے مراد حق کی معرفت اور اس پر عمل پیرا ہونا ہے اور بدعتی اور گمراہ شخص ہمیشہ حق کا مخالف ہوتا ہے۔ ﴿اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنَ﴾ اس بات کو متضمن ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص رکھا جائے، چاہے اس کا تعلق عبادات سے ہو یا استعانت سے۔ فَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔