وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَاتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا ٱئۡتِ بِقُرۡءَانٍ غَيۡرِ هَٰذَآ أَوۡ بَدِّلۡهُۚ قُلۡ مَا يَكُونُ لِيٓ أَنۡ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلۡقَآيِٕ نَفۡسِيٓۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّۖ إِنِّيٓ أَخَافُ إِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّي عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ ١٥
قُل لَّوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوۡتُهُۥ عَلَيۡكُمۡ وَلَآ أَدۡرَىٰكُم بِهِۦۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيكُمۡ عُمُرٗا مِّن قَبۡلِهِۦٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ١٦
فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ ١٧
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح تو کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی، لے آ تو کوئی (اور) قرآن علاوہ اس کے یا بدل دے اس کو (کچھ)، کہہ دیجیے! نہیں لائق واسطے میرے یہ کہ بدل دوں میں اسے اپنی طرف سے، نہیں اتباع کرتا میں مگر اسی چیز کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف، بے شک میں ڈرتا ہوں ، اگر میں نے نافرمانی کی اپنے رب کی، عذاب سے بہت بڑے دن کے(15) کہہ دیجیے! اگر چاہتا اللہ تو نہ تلاوت کرتا میں اس کی تم پراور نہ اللہ اطلاع دیتا تمھیں اس کی، پس تحقیق ٹھہرا ہوں میں تمھارے اندر ایک مدت اس (دعوائے نبوت) سے پہلے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (16) پس کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے افتراء باندھا اوپر اللہ کے جھوٹا یا اس نے جھٹلایا اس کی آیتوں کو؟ بلاشبہ نہیں فلاح پائیں گے مجرم(17)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار کی ڈھٹائی اور تعصب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے آیات قرآنی کی تلاوت کی جاتی ہے جو حق کو بیان کرتی ہیں تو یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جب ان سے اس ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ ظلم اور جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَيۡرِ هٰؔذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡهُ﴾ ’’اس قرآن کے علاوہ کوئی اور لا یا اس کو بدل دے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا برا کرے! وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھکرا کر کتنا سخت ظلم کرتے ہیں ۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عظیم رسولﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان سے کہہ دیں : ﴿قُلۡ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ مجھے یہ زیبا ہے نہ میرے لائق ہے‘‘ ﴿اَنۡ اُبَدِّلَهٗ مِنۡ تِلۡقَآئِ نَفۡسِيۡ﴾ ’’کہ میں اس کو اپنی طرف سے بدل دوں ‘‘ کیونکہ میں تو صرف رسول ہوں میرے اختیار میں کچھ نہیں ۔ ﴿اِنۡ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ﴾ ’’میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی اتباع وحی کے علاوہ میرا کوئی اختیار نہیں کیونکہ میں تو مامور بندہ ہوں ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں ، اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ مخلوق میں بہترین ہستی کا قول اور اللہ تعالیٰ کے اوامر اور وحی کے بارے میں اس کا رویہ ہے، تب یہ بیوقوف اور گمراہ لوگ، جنھوں نے جہالت اور گمراہی، ظلم اور عناد اور اللہ رب العالمین پر اعتراضات اور عجز کی طرف اس کی نسبت کو جمع کر رکھا ہے، کیوں کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گریز کر سکتے ہیں ۔ کیا وہ ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتے نہیں ؟اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ان آیات و معجزات کے ذریعے سے ان کے سامنے حق واضح ہو جائے، جن کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں تو وہ اس بارے میں جھوٹے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات بیان کر دی ہیں جو انسان کے بس سے باہر ہیں ، اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے اپنی رحمت اور حکمت ربانی کے مطابق ان آیات میں تصرف کرتا ہے۔
[16]﴿قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوۡتُهٗ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰىكُمۡ بِهٖ١ۖٞ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيۡكُمۡ عُمُرًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر اللہ چاہتا تو میں پڑھتا اس کو تمھارے سامنے نہ وہ خبر کرتا تم کو اس کی، پس تحقیق میں رہ چکا ہوں تم میں ایک طویل عرصہ‘‘ یعنی بہت طویل عرصے تک میں تمھارے اندر رہا ہوں ۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’اس سے پہلے‘‘ یعنی اس کی تلاوت اور تمھارے اس کو جان لینے سے قبل۔ اور میں نے کبھی اس کے بارے میں سوچا ہی نہ تھا اور یہ چیز کبھی میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر تم نہیں سوچتے‘‘ یعنی میں نے عمر بھر تمھارے سامنے اس کو تلاوت نہیں کیا اور مجھ سے کبھی کوئی ایسی چیز صادر نہیں ہوئی جو اس پر دلالت کرتی ہو، پھر اس کے بعد میں کیوں کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ سکتا ہوں ۔ میں نے تمھارے اندر ایک لمبی عمر گزاری ہے، تم میری حقیقت حال سے خوب واقف ہو، میرے ماں باپ کو جانتے ہو، تم یہ بھی جانتے ہو کہ میں پڑھ سکتا ہوں نہ لکھ سکتا ہوں اور میں کسی سے درس لیتا ہوں نہ کسی سے تعلیم حاصل کرتا ہوں ؟پس میں تمھارے پاس ایک عظیم کتاب لے کر آیا ہوں جس نے بڑے بڑے علما اور فصحا کو عاجز اور لاچار کر دیا، کیا اس کے باوجود یہ ممکن ہے کہ اس کتاب کو میں نے اپنی طرف سے تصنیف کر لیا ہو یا یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ یہ حکمت والے اور ستائش کے لائق اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے؟ اگر تم اپنی عقل و فکر کو استعمال کرو، میرے احوال اور اس کتاب کے حال میں تدبر کرو تو تمھیں قطعی یقین آجائے گا جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ حق ہے جس کے بعد گمراہی کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ مگر جب تم نے عناد کی بنا پر اسے جھٹلا دیا تو اس میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ تم سخت ظالم ہو۔
[17] اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا؟ اگر میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑوں تو میں لوگوں میں سب سے ظالم شخص اور فلاح سے محروم ہوں ۔ میرے حالات تم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میں تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات لے کر آیا ہوں ، تم نے ان کو جھٹلایا، جس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ تم ظالم ہو۔ تمھارا معاملہ عنقریب مضمحل ہو جائے گا اور جب تک تم اپنی اس ڈگر پر چلتے رہو گے، ہرگز فلاح نہیں پا سکو گے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ﴾ ’’جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں ۔‘‘ دلالت کرتا ہے کہ جس چیز نے ان کو اس تعنت (کٹ حجتی) پر آمادہ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے پر عدم ایمان اور اس کے ساتھ ملاقات ہونے پر عدم یقین ہے جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ملاقات پر ایمان رکھتا ہے وہ لازمی طور پر اس کتاب کی اتباع کرتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے کیونکہ وہ صحیح نیت والا ہے۔