اور جب ہم چکھاتے ہیں (کافر) لوگوں کو رحمت بعد اس تکلیف کے جو انھیں پہنچی تو ناگہاں ان کے لیے چالیں ہوتی ہیں (جو وہ چلتے ہیں ) ہماری آیتوں میں ، کہہ دیجیے! اللہ سب سے زیادہ تیز ہے چال (چلنے) میں ، بے شک ہمارے رسول ( فرشتے) لکھتے ہیں جو چالیں تم چلتے ہو (21)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَةً مِّنۢۡ بَعۡدِ ضَرَّآءَؔ مَسَّتۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا، ایک تکلیف کے بعد جو ان کو پہنچی تھی۔‘‘ مثلاً: مرض کے بعد صحت، تنگ دستی کے بعد فراخی اور خوف کے بعد امن تو وہ بھول جاتے ہیں کہ انھیں کیا تکلیف پہنچی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فراخی اور اس کی رحمت پر اس کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی سازشوں اور سرکشی پر جمے رہتے ہیں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِذَا لَهُمۡ مَّؔكۡرٌ فِيۡۤ اٰيَاتِنَا﴾ ’’اسی وقت بنانے لگیں وہ حیلے ہماری آیتوں میں ‘‘ یعنی وہ باطل میں کوشاں رہتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو باطل ثابت کریں ﴿ قُلِ اللّٰهُ اَسۡرَعُ مَكۡرًا﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ حیلے بنانے (تدبیر کرنے) میں زیادہ تیز ہے‘‘ کیونکہ بری چالوں کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ ان کے برے مقاصد انھی پر پلٹ جاتے ہیں اور وہ برے انجام سے محفوظ نہیں رہتے بلکہ فرشتے ان کے اعمال لکھتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو محفوظ کر لیتا ہے پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔