Tafsir As-Saadi
10:22 - 10:23

وہی ہے (اللہ) جو چلاتا ہے تمھیں خشکی اور تری میں ، حتی کہ جب ہوتے ہو تم کشتیوں میں اور چلتی ہیں وہ انھیں (تمھیں ) لے کر ساتھ ہوا پاکیزہ (موافق)کےاورخوش ہوتے ہیں وہ ساتھ اس (ہوا) کے تو آتی ہے ان پر سخت ہوااور آتی ہیں ان کے پاس لہریں ہر طرف سے اور گمان کرتے ہیں وہ کہ بے شک گھیر لیا گیا ہے ان کو تو (اس وقت) پکارتے ہیں اللہ کو خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے عبادت کو، کہ اگر تو نے نجات دے دی ہمیں اس (طوفان) سے تو یقینا ہو جائیں گے ہم شکر گزاروں میں سے (22) پس جب اس (اللہ) نے نجات دے دی ان کو فوراً وہ سرکشی کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق، اے لوگو! یقینا تمھاری سرکشی (کا وبال) اوپر تمھاری جانوں ہی کے ہے، (اٹھالو) فائدہ زندگی کا دنیا کی ، پھر ہماری طرف ہی لوٹنا ہے تمھیں ، پس ہم خبردیں گے تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے (23)

[23,22] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا کہ تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور تنگ دستی کے بعد فراخی کے وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے تو اب ان کی اس حالت کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جب وہ سمندر کے اندر سفر کرتے ہیں اور سمندر سخت جوش میں ہوتا ہے اور ان کو اس کے انجام کا خوف ہوتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ يُسَيِّرُؔكُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ﴾ ’’وہی ہے جو تمھیں چلاتا ہے خشکی اور سمندر میں ‘‘ یعنی ان اسباب کے ذریعے سے جو اس نے تمھیں مہیا کیے ہیں اور ان کی طرف تمھاری راہ نمائی فرمائی ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا كُنۡتُمۡ فِي الۡفُلۡكِ﴾ ’’یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو‘‘ یعنی بحری جہازوں میں ﴿وَجَرَيۡنَ بِهِمۡ بِرِيۡحٍ طَيِّبَةٍ﴾ ’’اور لے کر چلیں وہ ان کو اچھی ہوا سے‘‘ یعنی وہ ہوا جو ان کی خواہش کے موافق بغیر کسی مشقت اور گھبراہٹ کے ان جہازوں کو چلاتی ہے۔ ﴿وَّفَرِحُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور وہ خوش ہوں ساتھ ان کے‘‘ اور ان ہواؤں پر نہایت مطمئن ہوتے ہیں اور وہ اسی حال میں ہوتے ہیں کہ ﴿جَآءَتۡهَا رِيۡحٌ عَاصِفٌ ﴾ ’’اچانک زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے۔‘‘ یعنی کشتیوں پر سخت ہوا آئی ﴿ وَّجَآءَهُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اُحِيۡطَ بِهِمۡ﴾ ’’اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور انھوں نے جان لیا کہ وہ گھر گئے‘‘ یعنی انھیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ان کی ہلاکت یقینی ہے، تب اس وقت مخلوق سے ان کے تمام تعلق منقطع ہو جاتے ہیں اور انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت اور سختی سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا، تب اس وقت ﴿ دَعَوُا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کو پکارتے ہیں ‘‘ اور الزامی طور پر اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں ، چنانچہ کہتے ہیں ﴿ لَىِٕنۡ اَنۡجَيۡتَنَا مِنۡ هٰؔذِهٖ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾’’اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا لے تو ہم تیرے شکر گزار ہو جائیں گے۔‘‘﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡجٰؔىهُمۡ اِذَا هُمۡ يَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’پس جب اللہ نے ان کو نجات دے دی تو اسی وقت شرارت کرنے لگے زمین میں ناحق۔‘‘ یعنی وہ اس سختی کو جس میں وہ مبتلا تھے، ان دعاؤں کو جو وہ مانگتے رہے تھے اور ان وعدوں کو جو انھوں نے اپنے اوپر لازم کیے تھے، فراموش کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی ہستی انھیں ان سختیوں سے نجات دے سکتی ہے نہ ان کی تنگی دور کر سکتی ہے۔ پس انھوں نے اپنی فراخی اور کشادگی میں عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیوں نہ کیا جس طرح انھوں نے سختی میں اپنی عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیا تھا مگر اس بغاوت اور سرکشی کا وبال انھیں پر پڑے گا۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغۡيُكُمۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ١ۙ مَّؔتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’اے لوگو! تمھاری شرارت تمھی پر پڑے گی، نفع اٹھا لو دنیا کی زندگانی کا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے سرکشی و بغاوت اور اس کے لیے اخلاص سے دور بھاگنے میں ان کی غرض و غایت یہ ہے کہ وہ دنیا کے چند ٹکڑے اور اس کا مال و جاہ اور معمولی سے فوائد حاصل ہوں جو بہت جلد ختم ہو جائیں گے، سب کچھ ہاتھوں سے نکل جائے گا اور تم اسے چھوڑ کر یہاں سے کوچ کر جاؤ گے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيۡنَا مَرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر ہمارے پاس ہی تمھیں لوٹ کر آنا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَنُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر ہم تمھیں بتلا دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے‘‘ اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کو ان کے اپنے ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔