Tafsir As-Saadi
10:25 - 10:26

اور اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف اور وہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، طرف سیدھی راہ کے (25) واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کیں نیکیاں ، نیک بدلہ (جنت) ہے اور مزید (دیدار الٰہی) ہےاور نہیں ڈھانپے گی ان کے چہروں کو سیاہی اور نہ ذلت، یہی لوگ ہیں جنتی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (26)

[25] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف عام دعوت اور اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ جس کو اپنے لیے خالص کر کے چن لینا چاہتا ہے اس کے لیے ہدایت کو مخصوص کر دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کے لیے اپنی رحمت کو مختص کر دیتا ہے، یہ اس کا عدل و حکمت ہے اور حق و باطل کو بیان کر دینے اور رسولوں کو مبعوث کرنے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ’’دارالسلام‘‘ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کہ یہ تمام آفات اور نقائص سے محفوظ اور سلامت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نعمتیں کامل، ہمیشہ باقی رہنے والی اور ہر طرح سے خوبصورت ہیں ۔
[26] اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلایا تو گویا ان نفوس کو ان اعمال کا اشتیاق پیدا ہوا جو ان کو اس گھر میں پہنچانے کے موجب ہیں ۔ فرمایا: ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰى وَزِيَادَةٌ﴾ ’’ان لوگوں کے واسطے جنھوں نے بھلائی کی، بھلائی اور مزید ہے‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جنھوں نے خالق کی عبادت میں احسان سے کام لیا یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مراقبہ اور خیر خواہی کے ساتھ اس کی عبادت کی اور مقدور بھر اس عبودیت کو قائم رکھا اور اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے بندوں سے احسان قولی اور احسان فعلی کے ساتھ پیش آئے اور ان کے ساتھ مالی اور بدنی احسانات سے کام لیا، نیکی کا حکم دیا، برائی سے روکا، جہلا کو تعلیم دی، روگردانی کرنے والوں کی خیر خواہی کی، نیکی اور احسان کے دیگر تمام پہلوؤں پر عمل کیا۔یہی وہ لوگ ہیں جو احسان کے مرتبہ پر فائز ہوئے اور انھی کے لیے (الحسنی) ہے یعنی ایسی جنت جو اپنے حسن و جمال میں کامل ہے۔ مزید برآں ان کے لیے اور بھی انعام ہے یہاں (زِیَادَۃ) ’’مزید‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے چہرۂ انور کا دیدار، اس کے کلام مبارک کا سماع، اس کی رضا کا فیضان اور اس کے قرب کا سرور ہے۔ اس ذریعے سے انھیں وہ بلند مقامات حاصل ہوں گے کہ تمنا کرنے والے ان کی تمنا کرتے ہیں اور سوال کرنے والے اللہ تعالیٰ سے انھی مقامات کا سوال کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے محذورات کے دور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَلَا يَرۡهَقُ وُجُوۡهَهُمۡ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ﴾ ’’اور نہ چڑھے گی ان کے چہروں پر سیاہی اور نہ رسوائی‘‘ یعنی انھیں کسی لحاظ سے بھی کسی ناگوار صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ جب کوئی ناگوار امر واقع ہوتا ہے تو یہ ناگوار امر اس کے چہرے پر ظاہر ہو جاتا ہے اور چہرہ تغیر اور تکدر کا شکار ہو جاتا ہے۔ رہے یہ لوگ تو ان کی حالت ایسے ہوگی جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿تَعۡرِفُ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾(المصطففین: 83؍24) ’’تو ان کے چہروں میں نعمتوں کی تازگی معلوم کر لے گا۔‘‘ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ﴾ ’’یہی ہیں جنت میں رہنے والے‘‘ ﴿هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ جنت سے منتقل ہوں گے نہ اس سے دور ہوں گے اور نہ وہ تبدیل ہوں گے۔