Tafsir As-Saadi
10:28 - 10:30

اور (یاد کرو) جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان کو، سب کو، پھر کہیں گے ہم ان لوگوں کے لیے جنھوں نے شرک کیا تھا، (ٹھہرے رہو) اپنی اپنی جگہ پر تم اور تمھارے شریک (معبودان باطلہ)، پھر ہم جدائی ڈال دیں گے ان کے درمیان اور کہیں گے ان کے شریک (معبود) نہیں تھے تم ہماری عبادت کرتے (28) پس کافی ہے اللہ گواہ درمیان ہمارے اور درمیان تمھارے، بلاشبہ تھے ہم تمھاری عبادت سے بالکل غافل (29) وہاں جانچ (جان) لے گا ہر نفس، جو کچھ اس نے کیا تھا پہلے (دنیا میں ) اور وہ لوٹائے جائیں گے طرف اللہ کی، جو مالک ہے ان کا حقیقی اور گم ہو جائے گا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(30)

[28]﴿وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔‘‘ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے، ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿ ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا مَكَانَكُمۡ اَنۡتُمۡ وَشُرَؔكَآؤُكُمۡ﴾ ’’پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ، تم اور تمھارے شریک‘‘ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو تاکہ تمھارے اور تمھارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ ﴿ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ہم بُعد بدنی اور بُعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے، دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لیے خالص محبت و مودت رکھتے تھے۔ اب ان کے درمیان سخت عداوت ہوگی۔ یہ محبت اور دوستی سخت عداوت اور بغض میں بدل جائے گی۔ ﴿ وَقَالَ شُرَؔكَآؤُهُمۡ﴾ ’’اور ان کے شریک کہیں گے۔‘‘ یعنی ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿ مَّا كُنۡتُمۡ اِيَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’تم ہماری عبادت تو نہ کرتے تھے‘‘ کیونکہ ہم تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس سے پاک اور منزہ گردانتے ہیں کہ اس کا کوئی شریک اور ہمسر ہو۔
[29]﴿ فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ اِنۡ كُنَّا عَنۡ عِبَادَتِكُمۡ لَغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس اللہ کافی ہے گواہ، ہمارے اور تمھارے درمیان، یقینا ہم تمھاری عبادت سے بے خبر تھے۔‘‘ ہم نے تمھیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے تمھیں اس کی طرف بلایا تھا بلکہ درحقیقت تم نے تو اس کی عبادت کی ہے جس نے تمھیں اس شرک کی طرف دعوت دی اور وہ ہے شیطان مردود، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا ﴿ اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یس: 36؍60) ’’اے اولاد آدم! کیا میں نے تمھیں کہہ نہ دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ١ۚ اَ كۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(سباء:34؍40-41) ’’اور جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے تو پاک ہے، ان کی بجائے تو ہمارا دوست ہے بلکہ یہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انھی کی بات مانتے تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے، انبیائے کرام علیہ السلام اور اولیائے عظام وغیرہم قیامت کے روز ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں گے جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو (اس الزام سے) بری کریں گے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور وہ اپنی اس براء ت میں سچے ہوں گے۔
[30] تب اس وقت مشرکین کو اتنی زیادہ حسرت ہوگی کہ اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں اپنے اعمال کی مقدار کا علم ہو جائے گا اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان سے کیا ردی خصائل صادر ہوتے رہے ہیں ۔ اس روز ان پر عیاں ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کیا کرتے تھے۔ ان کی عبادتیں گم اور ان کے معبود نابود ہو جائیں گے اور ان کے تمام اسباب و وسائل منقطع ہو جائیں گے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ هُنَالِكَ ﴾ ’’وہاں ‘‘ یعنی اس روز ﴿تَبۡلُوۡا كُلُّ نَفۡسٍ مَّاۤ اَسۡلَفَتۡ﴾ ’’جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا‘‘ یعنی ان کے اعمال کی پڑتال کی جائے گی اور ان کی نوعیت کے مطابق ان کو جزا دی جائے گی۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو اچھی جزا ہوگی، اگر اعمال برے ہوں گے تو جزا بھی بری ہوگی۔ ﴿رُدُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ مَوۡلٰىهُمُ الۡحَقِّ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اللہ کی طرف لوٹا دیے جائیں گے، جو ان کا سچا مالک ہے اور جاتا رہے گا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی اپنے شرک کے بارے میں انھوں نے بہتان طرازی کی تھی کہ یہ معبودان باطل جن کی یہ عبادت کرتے تھے، ان کو فائدہ دے سکتے ہیں اور عذاب کو ان سے دور کر سکتے ہیں ۔ (اس روز ان بہتانوں کی حقیقت واضح ہو جائے گی)۔