کہہ دیجیے! کیا ہے کوئی تمھارے (بناوٹی) شریکوں میں سے جو پہلی بار پیدا کرے مخلوق کو ، پھر دوبارہ پیدا کر دے اسے؟ کہہ دیجیے ! اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو، پھر وہی دوبارہ (بھی) پیدا کرے گا اس کو، پس کیسے ، پھرے جاتے ہو تم (34)کہہ دیجیے! کیاہے کوئی تمھارے شریکوں میں سے جو ہدایت دیتا ہو حق کی طرف؟ کہہ دیجیے! اللہ ہی ہدایت دیتا ہے واسطے حق کے ، کیا پس جو ہدایت دیتا ہے حق کی طرف زیادہ حق دار ہے اس بات کا کہ اس کا اتباع کیا جائے یا وہ جو نہیں ہے خود ہدایت یافتہ مگر یہ کہ وہ ہدایت دیا جائے (حق کی)؟ پس کیاہے تمھیں ؟ کیسے فیصلہ کرتے ہو تم؟(35)اور نہیں اتباع کرتے اکثر ان کے مگر ظن کی، بلاشبہ ظن (گمان) تو نہیں فائدہ دیتا حق سے کچھ بھی، بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے اس چیز کو جو وہ کر رہے ہیں (36)
[34] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے معبودان باطل کی بے بسی اور ان کے ان صفات سے محروم ہونے کا، جو معبود گردانے جانے کی موجب ہیں ، ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَؔكَآىِٕكُمۡ مَّنۡ يَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں جو پیدا کرے مخلوق کو‘‘ یعنی پہلی مرتبہ اسے بنائے؟ ﴿ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ﴾ ’’پھر اسے دوبارہ زندہ کرے‘‘ یہ استفہام بمعنی نفی اور اثبات کے ہے، یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو مخلوق کی تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ کر سکتی ہو، وہ ایسا کرنے سے یکسر عاجز اور کمزور ہے۔
[35]﴿ قُلِ اللّٰهُ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ﴾ ’’کہہ دیجیے! کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی بغیر کسی شریک کی شراکت اور بغیر کسی معاون کی مدد کے تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ﴿ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس کہاں پھرے جاتے ہو تم؟‘‘ یعنی پھر اس ہستی کی عبادت سے منحرف ہو کر جو مخلوق کی ابتدا کرنے اور پھر اس کا اعادہ کرنے میں متفرد ہے، ایسی ہستیوں کی عبادت کر رہے ہو جو کچھ تخلیق کرنے سے قاصر بلکہ خود مخلوق ہیں ۔﴿قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَؔكَآىِٕكُمۡ مَّنۡ يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الۡحَقِّ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا ہے تمھارے شریکوں میں سے جو حق کی طرف رہنمائی کرے‘‘ یعنی اپنے بیان اور راہ نمائی یا اپنے الہام اور توفیق کے ذریعے سے، حق کی طرف راہ نمائی کر سکتا ہو۔ ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ﴿ يَهۡدِيۡ لِلۡحَقِّ﴾ ’’رہنمائی کرتا ہے حق کی طرف‘‘ دلائل و براہین اور الہام و توفیق کے ذریعے سے حق کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور راست ترین راستے پر گامزن ہونے میں مدد دیتا ہے۔ ﴿ اَفَمَنۡ يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الۡحَقِّ اَحَقُّ اَنۡ يُّتَّبَؔعَ اَمَّنۡ لَّا يَهِدِّيۡۤ اِلَّاۤ اَنۡ يُّهۡدٰؔى ﴾ ’’کیا پس جو شخص راہ بتائے صحیح، اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جو آپ راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کو راہ بتلائی جائے۔‘‘ یعنی اپنے عدم علم اور گمراہی کے سبب سے اور اس سے مراد ان کے گھڑے ہوئے شریک ہیں جو کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں نہ خود ہدایت یافتہ ہیں ، سوائے اس کے کہ خود ان کی راہ نمائی کی جائے۔ ﴿ فَمَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھیں اس پر آمادہ کیا ہے کہ تم یہ باطل فیصلہ کرتے ہو اور اس حقیقت پر دلیل و برہان کے ظاہر ہونے کے بعد کہ اللہ واحد کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت کی صحت کا حکم لگاتے ہو۔جب یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ ان کے معبودان باطل میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ، وہ معنوی اور فعلی اوصاف موجود نہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جائے بلکہ اس کے برعکس یہ معبودان باطل نقائص سے متصف ہیں جو ان کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہیں، تب وہ کون سی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ انھیں بھی معبود قرار دیتی ہے؟
[36] اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے لیے اس کو خوش نما بنا دینا شیطان کا کام ہے، یہ قبیح ترین بہتان اور سب سے بڑی گمراہی ہے لیکن یہی اس کا دل پسند اعتقاد بن گیا ہے اور وہ اسی کو حق سمجھتا ہے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا يَتَّبِـعُ اَ كۡثَرُهُمۡ﴾ ’’اور نہیں پیروی کرتے ان کے اکثر لوگ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنے گھڑے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں ﴿اِلَّا ظَنًّا﴾ ’’مگر گمان کی۔‘‘ یعنی وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے شریکوں کو نہیں پکارتے کیونکہ اصل میں عقلاً و نقلاً اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ، یہ لوگ محض اپنے ظن اور گمان کی پیروی کرتے ہیں ﴿ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغۡنِيۡ مِنَ الۡحَقِّ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔‘‘ پس انھوں نے ان کو معبود کے نام سے موسوم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی عبادت بھی کرنے لگے ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰ بَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾(النجم: 53؍23) ’’وہ تو صرف چند نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آباء و اجداد نے گھڑ لیے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے افعال کو خوب جانتا ہے اور وہ ان افعال پر انھیں سخت سزا دے گا۔