Tafsir As-Saadi
10:42 - 10:44

اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف، کیا پس آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو اگرچہ ہوں وہ نہ عقل رکھتے؟ (42) اوربعض ان میں سے وہ ہیں جودیکھتے ہیں آپ کی طرف، کیا پس آپ راہ دکھا سکتے ہیں اندھوں کو اگرچہ ہوں وہ نہ دیکھتے؟ (43) بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرتا لوگوں پر کچھ بھی لیکن لوگ اپنے آپ پر (خود ہی) ظلم کرتے ہیں (44)

[42] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جنھوں نے رسول (ﷺ) کی اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کی تکذیب کی، چنانچہ فرمایا:﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ﴾ ’’اور ان میں سے بعض کان لگاتے ہیں آپ کی طرف‘‘ یعنی وحی کی قراء ت کے وقت نبی کریمﷺ کو غور سے سنتے ہیں ، رشد و ہدایت کے حصول کی خاطر نہیں بلکہ تکذیب اور کمزوریاں تلاش کرنے کے لیے سنتے ہیں اور اس طرح کا سننا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور سننے والے کو کوئی بھلائی عطا نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پر توفیق کا دروازہ بند ہوگیا اور وہ سننے کے فائدے سے محروم ہوگئے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّؔ وَلَوۡ كَانُوۡا لَا يَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ ’’کیا آپ بہروں کو سنائیں گے، اگرچہ وہ سمجھ نہ رکھتے ہوں ‘‘ یہ استفہام بمعنی نفی متقرر (استفہام انکاری) ہے، یعنی آپ بہروں کو نہیں سنا سکتے جو بات کو غور سے نہیں سنتے خواہ آپ بآواز بلند کیوں نہ سنوائیں خاص طور پر جبکہ وہ عقل سے محروم ہوں ۔ جب بہرے کو سنوانا محال ہے جو کلام کو سمجھنے سے قاصر ہے، تب یہ تکذیب کرنے والے بھی اسی طرح سننے سے قاصر ہیں آپ ان کو بھی نہیں سنوا سکتے جس سے یہ نفع اٹھا سکیں ۔ رہا سماع حجت تو انھوں نے اتنا ضرور سن لیا جس سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت بالغہ قائم ہو۔ سماعت حصول علم کے راستوں میں سے ایک بہت بڑا راستہ ہے جو ان پر مسدود ہو چکا ہے اور یہ بھلائی سے متعلق مسموعات ہیں ۔
[43] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسرے راستے کے مسدود ہونے کا ذکر فرمایا ہے اور وہ ہے نظر کا راستہ، چنانچہ فرمایا ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡظُرُ اِلَيۡكَ﴾ ’’اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں ۔‘‘ اور ان کا آپ کی طرف دیکھنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ آپ کو کوئی راحت دے سکتا ہے۔ پس جس طرح آپ اندھوں کو راہ نہیں دکھا سکتے جو بصارت سے محروم ہیں اسی طرح آپ بہروں کی بھی راہ نمائی نہیں کر سکتے۔ جب ان کی عقل، سماعت اور بصارت، جو حصول علم اور معرفت حقائق کا ذریعہ ہیں ، خرابی کا شکار ہو جائیں تب ان کے لیے حق تک پہنچنے کا کون سا راستہ ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡظُرُ اِلَيۡكَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ نبی کریمﷺ کے احوال، آپ کے طریقوں ، آپ کے اخلاق اور آپ کے اعمال کو دیکھنا آپ اور آپ کی دعوت کی صداقت پر دلیل مہیا کرتا ہے اور یہ نظر، صاحب بصیرت کو دیگر دلائل سے مستغنی کر دیتی ہے۔
[44]﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ النَّاسَ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا‘‘ پس وہ لوگوں کی برائیوں کو بڑھاتا ہے، نہ نیکیوں میں کمی کرتا ہے۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ النَّاسَ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَؔ ﴾ ’’لیکن لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔‘‘ ان کے پاس حق آتا ہے مگر یہ اسے قبول نہیں کرتے ہیں ، تب اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر ان کے دلوں ، ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دیتا ہے۔