اے لوگو! تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے اور شفا واسطے ان (بیماریوں ) کے جو سینوں میں ہیں اور ہدایت اور رحمت واسطے مومنوں کے (57) کہہ دیجیے! ساتھ اللہ کے فضل اور ساتھ اس کی رحمت کے تو ساتھ اس کے پس چاہیے کہ وہ(لوگ) خوش ہوں ، وہ (اللہ کا فضل) بہت بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں (58)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ کتاب کریم کے اوصاف حسنہ جو بندوں کے لیے ضروری ہیں بیان کر کے، اس کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ مَّوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’اے لوگو! تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی‘‘ یعنی وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور وہ تمھیں ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے موجب اور اس کے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں ۔ وہ ان اعمال کے اثرات اور مفاسد بیان کر کے تمھیں ان سے بچاتا ہے۔﴿وَشِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ ’’اور شفا دلوں کے روگ کی‘‘ اور وہ یہی قرآن ہے جو امراض قلب، مثلاً:امراض شہوات، جو شریعت کی اطاعت سے روکتے ہیں اور امراض شبہات، جو علم یقینی میں قادح ہیں ... کے لیے شفا ہے۔ اس کتاب کریم کے اندر مواعظ، ترغیب و ترہیب اور وعد و وعید کے جو مضامین ہیں وہ بندے کے لیے رغبت و رہبت کے موجب ہیں ۔ جب آپ اس کتاب کریم میں بھلائی کی طرف رغبت، برائی سے ڈر اور قرآن کے معانی میں بتکرار ایسا اسلوب پاتے ہیں تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی مراد کو نفس کی مراد پر مقدم رکھنے کی موجب بنتی ہے اور بندۂ مومن کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی رضا شہوت نفس سے زیادہ محبوب بن جاتی ہے۔اسی طرح اس کے اندر جو دلائل و براہین ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے ذکر کیا ہے اور انھیں بہترین اسلوب میں بیان کیا ہے جو ایسے شبہات کو زائل کر دیتا ہے جو حق میں قادح ہیں اور اس کے ذریعے سے قلب یقین کے بلند ترین مراتب پر پہنچ جاتا ہے اور جب قلب اپنی بیماری سے صحت یاب ہو جاتا ہے اور وہ لباس عافیت کو زیب تن کر لیتا ہے تو جوارح اس کی پیروی کرتے ہیں اس لیے کہ جوارح، دل کی درستی سے درست رہتے ہیں اگر دل فاسد ہو جاتا ہے تو جوارح بھی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔‘‘ پس ہدایت حق کے علم اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔ اور ’’رحمت‘‘ سے مراد وہ بھلائی، احسان اور دنیاوی و اخروی ثواب ہے جو ہدایت یافتہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ تب معلوم ہوا کہ ہدایت جلیل ترین وسیلہ اور رحمت کامل ترین مقصود و مطلوب ہے۔ اس کی طرف صرف اہل ایمان ہی کو راہ نمائی عطا ہوتی ہے اور اہل ایمان ہی رحمت سے نوازے جاتے ہیں ۔ جب بندۂ مومن کو ہدایت حاصل ہوتی ہے اور اسے ہدایت سے جنم لینے والی رحمت سے نواز دیا جاتا ہے تو وہ سعادت، فلاح، نفع، کامیابی، فرحت اور سرور کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
[58] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خوش ہونے کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ کے فضل کے ساتھ‘‘ فضل سے مراد قرآن ہے جو سب سے بڑی نعمت، احسان اور اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا فضل ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ﴿ وَبِرَحۡمَتِهٖ ﴾’’اور اس کی مہربانی کے ساتھ‘‘ یعنی دین، ایمان، اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت اور اس کی معرفت۔﴿ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’پس اسی پر انھیں خوش ہونا چاہیے، یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی دنیا کی متاع اور اس کی لذات سے بہتر ہے۔ دین کی نعمت، جس سے دنیا و آخرت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام مال و متاع کا اس سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ۔ دنیا کا مال و متاع تو عنقریب مضمحل ہو کر زائل ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت پر خوش ہونے کا صرف اس لیے حکم دیا ہے کہ یہ نفس کے انبساط، نشاط، اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے شکر، اس کی قوت، علم و ایمان میں شدید رغبت کا موجب اور علم و ایمان میں ازدیاد کا داعی ہے۔ یہ فرحت اور خوشی محمود ہے۔ اس کے برعکس دنیا کی شہوات و لذات اور باطل پر خوش ہونا مذموم ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قارون کے بارے میں اس کی قوم کا قول نقل فرمایا ہے ﴿ لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ﴾(القصص: 28؍76) ’’خوشی میں اتراؤ مت! اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو اپنے اس باطل پر اتراتے تھے جو انبیاء و رسل کی لائی ہوئی وحی کے متناقض تھا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ ﴾(غافر: 40؍83) ’’جب ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو (بزعم خود) جو علم ان کے پاس تھا اس کی بنا پر اترانے لگے۔‘‘