Tafsir As-Saadi
10:50 - 10:52

کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تم! اگر آجائے تم پر عذاب اس کا رات کو یا دن کو، (تو کیا برداشت کر لوگے؟ پھر) کیا وہ چیز ہے کہ جلدی طلب کر رہے ہیں اس (عذاب) کو مجرم؟(50)کیا پھر جب واقع ہو جائے گا (عذاب تب) ایمان لاؤ گے تم اس پر؟(اس وقت کہا جائے گا) کیا اب (ایمان لاتے ہو)؟ حالانکہ تھے تم اس کو جلدی طلب کرتے (51) پھر کہا جائے گا واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا، چکھو تم عذاب ہمیشگی کا، نہیں بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر ساتھ اس کے کہ تھے تم کماتے (52)

[50]﴿قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَتٰىكُمۡ عَذَابُهٗ بَيَاتًا﴾ ’’کہہ دیجیے! بتلاؤ، اگر تمھارے پاس اس کا عذاب آجائے راتوں رات۔‘‘ یعنی رات کے وقت سوتے میں ۔ ﴿اَوۡ نَهَارًا﴾ ’’یا دن کو‘‘ یعنی تمھاری غفلت کے وقت ﴿مَّاذَا يَسۡتَعۡجِلُ مِنۡهُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کیا چیز ہے جس کے لیے مجرمین جلدی کا مطالبہ کررہے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کون سی بشارت ہے جس کے لیے یہ جلدی مچا رہے ہیں اور کون سا عذاب ہے جس کی طرف یہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔
[51]﴿ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’کیا پھر جب وہ عذاب واقع ہو چکے گا، تب اس پر تم ایمان لاؤ گے؟‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس حال میں جبکہ وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں ، عتاب اور زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿آٰلۡـٰٔنَ﴾ ’’اب‘‘ یعنی اب تم اس شدت اور سخت مشقت کی حالت میں ایمان لاتے ہو؟ ﴿ وَقَدۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴾ تم تو اس عذاب کے لیے بہت جلدی مچایا کرتے تھے۔ اپنے بندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وقوع عذاب سے قبل اگر وہ اسے منانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان سے اپنی ناراضی کو دور کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب واقع ہو جاتا ہے تو کسی نفس کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دیتا، جیسا کہ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو اس نے کہا:﴿اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾(یونس: 10؍90) ’’میں ایمان لایا کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی اس کے سامنے سر اطاعت خم کر دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ تو اس کو جواب دیا گیا: ﴿ آٰلۡـٰٔنَ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(یونس: 10؍91) ’’اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا ہے اور فساد کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ﴾(المومن: 40؍85) ’’پس جب وہ ہمارا عذاب دیکھ لیں گے تو اس وقت ان کا ایمان لانا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘اور یہاں فرمایا: ﴿ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ١ؕ آٰلۡـٰٔنَ ﴾ ’’کیا جب وہ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے؟ (تو کہا جائے گا) اب تم‘‘ ( ایمان کا دعویٰ کرتے ہو؟)﴿ وَقَدۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴾’’اسی کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ یہ ہے تمھارے ہاتھوں کی کمائی اور یہ ہے وہ، جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔
[52]﴿ثُمَّ قِيۡلَ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا۔‘‘ جب قیامت کے روز ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ﴾ ’’چکھو عذاب ہمیشگی کا‘‘ یعنی وہ عذاب جس میں تم ہمیشہ رہو گے، یہ عذاب تم سے ایک گھڑی کے لیے دور نہ ہوگا ﴿هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اسی چیز کا بدلہ تمھیں دیا جا رہا ہے جو تم کماتے تھے‘‘ یعنی کفر، تکذیب رسالت اور معاصی کی تمھیں جزا دی جا رہی ہے۔