کہا انھوں نے، بنائی ہے اللہ نے اولاد، پاک ہے وہ(اولاد سے)، وہ بے پروا ہے، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اورجو کچھ زمین میں ہے، نہیں ہے تمھارے پاس کوئی دلیل اس بات کی، کیا کہتے ہو تم اوپر اللہ کے وہ بات جس کا نہیں علم رکھتے تم؟ (68) کہہ دیجیے! بے شک وہ لوگ جو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، نہیں فلاح پائیں گے وہ (69) تھوڑا سا فائدہ اٹھانا ہے دنیا میں ، پھر ہماری ہی طرف واپسی ہے ان کی، پھر ہم چکھائیں گے انھیں عذاب شدید بوجہ اس کے جو تھے وہ کفر کرتے (70)
[68] اللہ رب العالمین کے بارے میں مشرکین کی بہتان طرازی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’انھوں نے کہا، ٹھہرا لی ہے اللہ نے اولاد‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اس سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ﴾ ’’وہ پاک ہے۔‘‘ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی طرف جو نقائص منسوب کرتے ہیں وہ ان سے بلند و برتر ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں متعدد دلائل ذکر کیے ہیں :(۱)﴿ هُوَ الۡغَنِيُّ﴾ ’’وہ بے نیاز ہے‘‘ یعنی غنا (بے نیازی) اسی میں منحصر ہے اور غنا کی تمام اقسام کا وہی مالک ہے۔ وہ غنی ہے جو ہر پہلو، ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے غنائے کامل کا مالک ہے۔ جب وہ ہر لحاظ سے غنی ہے تب وہ کس لیے بیٹا بنائے گا؟ کیا اس وجہ سے کہ وہ بیٹے کا محتاج ہے؟ یہ تو اس کے غنا اور بے نیازی کے منافی ہے۔ کوئی شخص صرف اپنے غنا میں نقص کی بنا پر بیٹا بناتا ہے۔ (۲) دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔‘‘ یہ عام اور جامع کلمہ ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات اس کی ملکیت سے خارج نہیں ، تمام موجودات اس کی مخلوق، اس کے بندے اور مملوک ہیں اور یہ بات معلوم اور مسلم ہے کہ یہ وصف عام اس بات کے منافی ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو کیونکہ بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوگا جو مخلوق ہوگا نہ مملوک۔ پس آسمانوں اور زمین کا اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہونا ولادت (اولاد ہونے)کے منافی ہے۔(۳) تیسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ اِنۡ عِنۡدَكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍۭؔ بِهٰؔذَا﴾ ’’تمھارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ۔‘‘ یعنی تمھارے پاس تمھارے اس دعوی پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ اسے ضرور پیش کرتے۔ جب انھیں دلیل پیش کرنے کے لیے کہا گیا اور وہ دلیل قائم کرنے سے عاجز آگئے تو ان کے دعوے کا بطلان ثابت ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان کا قول بلا علم ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ ’’کیا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے‘‘ پس بلاعلم اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے۔
[70,69]﴿قُلۡ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ، وہ کامیاب نہیں ہوں گے‘‘ یعنی وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل نہ کر سکیں گے، وہ دنیا کی زندگی میں اپنے کفر اور جھوٹ کے ذریعے سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں گے پھر لوٹ کر اللہ کے حضور حاضر ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت عذاب کا مزا چکھائے گا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنۡ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ﴾(آل عمران: 3؍117) ’’اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘