اور آپ پڑھیں ان پر خبر نوح کی، جب اس نے کہا اپنی قوم سے، اے میری قوم! اگر ہے گراں گزرتا تم پر میرا کھڑا ہونا اور میرا نصیحت کرنا ساتھ اللہ کی آیتوں کے تو اللہ ہی پر توکل کیا میں نے، پس متفقہ فیصلہ کر لو تم (میرے خلاف) اپنے معاملے کا اپنے شریکوں سمیت، پھر نہ رہے معاملہ تمھارا تم پر مبہم، پھر نافذ کردو (اپنا فیصلہ) مجھ پراور نہ مہلت دو مجھے(71) پس اگر منہ پھیر لوتم تو نہیں سوال کیا میں نے تم سے کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اللہ کےاور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں فرماں برداروں میں سے (72) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو تو ہم نے نجات دی اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور بنا دیا ہم نے انھیں جانشین (ان کا) اور غرق کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ڈرائے گئے تھے (73)
[71] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمدﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کو سنایئے‘‘ یعنی اپنی قوم کے سامنے تلاوت کر دیجیے ﴿ نَبَاَ نُوۡحٍ﴾ ’’نوح کا حال‘‘ یعنی جناب نوحu کی دعوت کا حال، جو انھوں نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی وہ ایک طویل مدت تک ان کو دعوت دیتے رہے۔ پس وہ اپنی قوم کے درمیان نو سو پچاس برس تک رہے مگر ان کی دعوت نے ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کیا اور وہ آپ کی دعوت سے اکتا گئے اور سخت تنگ آگئے۔ نوحu نے ان کو دعوت دینے میں کسی سستی کا مظاہرہ کیا نہ کوتاہی کا، چنانچہ آپ ان سے کہتے رہے ﴿يٰقَوۡمِ اِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكُمۡ مَّقَامِيۡ وَتَذۡكِيۡرِيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر بھاری ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا اور میرا نصیحت کرنا‘‘ یعنی میرا تمھارے پاس ٹھہرنا اور تمھیں وعظ و نصیحت کرنا جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے ﴿ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی آیتوں سے‘‘ یعنی واضح دلائل کے ذریعے سے اور یہ چیز تمھارے لیے بہت بڑی اور تم پر شاق گزرتی ہے اور تم مجھے نقصان پہنچانے یا دعوت حق کو ٹھکرانے کا ارادہ رکھتے ہو۔ ﴿ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے‘‘ یعنی اس تمام شر کو دفع کرنے میں جو تم مجھے اور میری دعوت کو پہنچانا چاہتے ہو، میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ یہی توکل، میرا لشکر اور میرا تمام ساز و سامان ہے اور تم اپنے تمام تر سروسامان اور تعداد کے ساتھ جو کچھ کر سکتے ہو کر لو ﴿ فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام‘‘ تم تمام لوگ اکٹھے ہو کر، کہ تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے، میرے خلاف جدوجہد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ ﴿ وَ شُرَؔكَآءَكُمۡ ﴾ ’’اور جمع کرو اپنے شریکوں کو‘‘ یعنی ان تمام شریکوں کو بلا لو، جن کی تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو اور انھیں تم اپنا والی و مددگار بناتے ہو۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَكُنۡ اَمۡرُؔكُمۡ عَلَيۡكُمۡ غُمَّؔةً ﴾ ’’پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں اشتباہ‘‘ یعنی اس بارے میں تمھارا معاملہ مشتبہ اور خفیہ نہ ہو بلکہ تمھارا معاملہ ظاہر اور علانیہ ہو۔ ﴿ ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَيَّ ﴾ ’’پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو۔‘‘ یعنی میرے خلاف جو کچھ تمھارے بس میں ہے، سزا اور عقوبت کا فیصلہ سنا دو۔ ﴿ وَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ یعنی تم مجھے دن کی ایک گھڑی کے لیے بھی مہلت نہ دو۔یہ نوحu کی رسالت کی صحت اور آپ کے دین کی صداقت کی قطعی دلیل اور بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ آپ تنہا تھے آپ کا کوئی قبیلہ تھا جو آپ کی حمایت کرتا نہ آپ کے پاس کوئی فوج تھی جو آپ کی حفاظت کرتی۔ حضرت نوح کی قوم نے اپنی حماقت انگیز آراء، فساد دین اور اپنے خود ساختہ معبودان کے عیوب کا پرچار کیا اور آپ کے ساتھ بغض اور عداوت کا مظاہرہ کیا جو پہاڑوں اور چٹانوں سے زیادہ سخت تھی وہ مشرکین قدرت اور سطوت رکھنے والے لوگ تھے۔ نوحu نے ان سے فرمایا ’’تم، تمھارے گھڑے ہوئے شریک اور جن کو تم بلانے کی استطاعت رکھتے ہو، سب اکٹھے ہو جاؤ اور میرے خلاف جو چال تم چل سکتے ہو اگر قدرت رکھتے ہو تو چل کر دیکھ لو۔‘‘ پس وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ تب معلوم ہوا کہ حضرت نوحu سچے اور وہ اپنی دھمکیوں میں جھوٹے تھے۔
[72] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ ﴾ ’’پس اگر تم میری دعوت سے منہ موڑتے ہو‘‘ اور اس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ بات تمھارے سامنے واضح ہو چکی ہے کہ تم باطل کو چھوڑ کر حق کی طرف نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس تم تو حق سے منہ موڑ کر باطل کی طرف جا رہے ہو جس کے فاسد ہونے پر دلائل قائم ہو چکے ہیں۔ بایں ہمہ ﴿ فَمَا سَاَلۡتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔‘‘ یعنی میں اپنی دعوت اور تمھاری لبیک پر تم سے کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتا تاکہ تم میرے بارے میں یہ نہ کہتے پھرو کہ یہ تو ہمارے مال ہتھیانے کے لیے آیا ہے اور اسی وجہ سے ہم اس کی دعوت قبول نہیں کرتے۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’میرا معاوضہ تو اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے ثواب اور اجر کا طلب گار نہیں ۔ ﴿ وَ ﴾ نیز میں تمھیں کسی ایسی بات کا حکم نہیں دیتا جس کی مخالفت کر کے اس کی متضاد بات پر عمل کروں بلکہ ﴿ اُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’مجھے حکم ہے کہ میں فرماں بردار رہوں ‘‘ پس جن امور کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں سب سے پہلے میں خود ان میں داخل ہوتا ہوں اور سب سے پہلے میں خود اس پر عمل کرتا ہوں ۔
[73]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے نوح کو جھٹلایا‘‘ حضرت نوحu نے ان کو شب و روز اور کھلے چھپے دعوت دی مگر آپ کی دعوت نے ان کے فرار میں اضافہ کے سوا کچھ نہ کیا ﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے نجات دی اس کو اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے‘‘ یعنی وہ کشتی جس کے بارے میں ہم نے حضرت نوحu کو حکم دیا تھا کہ وہ اسے ہماری آنکھوں کے سامنے بنائیں ۔ جب تنور سے پانی ابل پڑا تو ہم نے انھیں حکم دیا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾(ھود:11؍40) ’’ہر قسم کے جانوروں میں سے جوڑا جوڑا لے لو اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے جس کی ہلاکت کا فیصلہ ہو چکا اور اس کو بھی ساتھ لے لینا جو ایمان لا چکا ہو۔‘‘ چنانچہ نوحu نے ایسا ہی کیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمان کو حکم دیا اس نے زور دار مینہ برسایا اور زمین کے چشمے ابل پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہو چکا تھا جس کے بارے میں فیصلہ ہو چکا تھا ﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ﴾(القمر: 54؍13) ’’اور ہم نے نوح کو ایک ایسی کشتی میں سوار کیا جو تختوں اور میخوں سے بنائی گئی تھی۔‘‘ جو ہماری آنکھوں کے سامنے پانی پر تیر رہی تھی۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ خَلٰٓىِٕفَ﴾ ’’اور ہم نے انھیں خلیفہ بنایا۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے انھیں زمین میں جانشین بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی نسل میں برکت ڈالی اور ان کی نسل ہی کو باقی رکھا اور ان کو زمین کے کناروں تک پھیلا دیا۔ ﴿ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اور ہم نے ان کو غرق کر دیا جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ یعنی جنھوں نے واضح کر دینے اور دلیل قائم کر دینے کے بعد بھی ہماری آیات کی تکذیب کی ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جن کو ڈرایا گیا تھا۔‘‘ ان کا انجام رسوا کن ہلاکت تھی اور مسلسل لعنت تھی جو ہر زمانے میں ان کا پیچھا کرتی رہی، آپ ان کے بارے میں صرف حرف ملامت ہی سنیں گے اور ان کے بارے میں برائی اور مذمت کے سوا کچھ نہیں دیکھیں گے... پس ان جھٹلانے والوں کو اس عذاب سے ڈرنا چاہیے جو انبیا و رسل کو جھٹلانے والی ان قوموں پر ہلاکت انگیز اور رسوا کن عذاب نازل ہوا تھا۔