پس اگر ہوں آپ شک میں اس (کتاب) سے جو نازل کی ہم نے آپ کی طرف تو پوچھیے ان لوگوں سے جو پڑھتے ہیں کتاب آپ سے پہلے، ، البتہ تحقیق آگیا ہے آپ کے پاس حق آپ کے رب کی طرف سے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے (94)اور نہ ہوں آپ ان لوگوں میں سے جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو، پس ہو جائیں گے آپ (اس طرح) خسارہ پانے والوں میں سے (95)
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ فَاِنۡ كُنۡتَ فِيۡ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ﴾ ’’اگر آپ اس کی بابت شک میں ہیں جو ہم نے آپ کی طرف اتارا‘‘ کہ آیا یہ صحیح ہے یا غیر صحیح ہے؟ ﴿ فَسۡـَٔلِ الَّذِيۡنَ يَقۡرَءُوۡنَ الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكَ﴾’’تو ان سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں ‘‘ یعنی انصاف پسند اہل کتاب اور راسخ العلم علماء سے پوچھیے وہ اس چیز کی صداقت کا اقرار کریں گے جس کی آپ کو خبر دی گئی ہے اور وہ یہ بھی اعتراف کریں گے وہ اس ہدایت کے موافق ہے جو ان کے پاس ہے۔اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بہت سے لوگوں نے بلکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی، آپ سے عناد رکھا اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ اہل کتاب سے اپنی صداقت پر گواہی لیں اور ان کی گواہی کو اپنی دعوت پر حجت اور اپنی صداقت پر دلیل بنائیں ... یہ کیسے ہو سکتا ہے؟اس کا جواب متعدد پہلوؤں سے دیا جاتا ہے۔(۱) جب شہادت کی اضافت کسی گروہ، کسی مذہب کے ماننے والوں یا کسی شہر کے لوگوں کی طرف کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو ان میں عادل اور سچے ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ خواہ اکثریت ہی میں کیوں نہ ہوں ، ان کی شہادت معتبر نہیں کیونکہ شہادت، عدالت اور صدق پر مبنی ہوتی ہے اور یہ مقصد بہت سے ربانی احبار کے ایمان سے حاصل ہوگیا تھا، مثلاً:عبداللہ بن سلامt اور ان کے اصحاب اور بہت سے دیگر اہل کتاب جو نبی اکرمﷺ اور آپ کے خلفاء کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں ایمان لاتے رہے۔(۲)رسول اللہﷺ کی صداقت پر اہل کتاب کی شہادت دراصل ان کی کتاب تورات، جس کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ، کے بیان پر مبنی ہے جب تورات میں ایسا مواد موجود ہو جو قرآن کی موافقت اور اس کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی صحت کی شہادت دیتا ہو، تب اگر اولین و آخرین تمام اہل کتاب اس کے انکار پر متفق ہو جائیں تو ان کا یہ انکار رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے قرآن میں قادح نہیں ۔(۳)اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ اپنے لائے ہوئے قرآن کی صداقت پر اہل کتاب سے استشہاد کریں اور ظاہر ہے کہ یہ حکم علی الاعلان دیا گیا تھا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اہل کتاب میں بہت سے لوگ رسول اللہﷺ کی دعوت کے ابطال کے بڑے حریص تھے۔ اگر ان کے پاس کوئی ایسا مواد موجود ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو رد کرسکتا تو وہ ضرور اسے پیش کرتے چونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی اس لیے دشمنوں کا عدم جواب اور مستجیب کا اقرار اس قرآن اور صداقت پر سب سے بڑی دلیل ہے۔(۴) اکثر اہل کتاب ایسے نہ تھے جنھوں نے رسول اللہﷺ کی دعوت کو رد کر دیا ہو بلکہ ان میں سے اکثر ایسے لوگ تھے جنھوں نے آپ کی دعوت کو قبول کر لیا تھا اور انھوں نے اپنے اختیار سے آپ کی اطاعت کی کیونکہ جب رسول اللہﷺ مبعوث ہوئے تو روئے زمین پر اکثر لوگ اہل کتاب تھے۔ اسلام پر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ شام، مصر، عراق اور ان کے آس پاس کے علاقوں کے اکثر لوگ مسلمان ہوگئے، یہ ممالک اہل کتاب کے مذہب کا گڑھ تھے۔ اسلام قبول کرنے سے صرف وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جن کے پاس سرداریاں تھیں اور جنھوں نے اپنی سرداریوں کو حق پر ترجیح دی تھی، نیز وہ لوگ باقی رہ گئے جنھوں نے ان سرداروں کی پیروی کی جو حقیقی طور پر نہیں بلکہ برائے نام اس دین کی طرف منسوب تھے، مثلاً:فرنگی، جن کے دین کی حقیقت یہ ہے کہ وہ دہریے ہیں اور تمام انبیاء و مرسلین کے مذاہب کے دائرے سے خارج ہیں وہ صرف ملکی رواج کے طور پر اور اپنے باطل پر ملمع کی خاطر دین مسیح کی طرف منسوب ہیں ۔ جیسا کہ ان کے حالات کی معرفت رکھنے والے جانتے ہیں ۔﴿ لَقَدۡ جَآءَكَ الۡحَقُّ﴾’’تحقیق آ گیا آپ کے پاس حق‘‘ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ ’’آپ کے رب کی طرف سے، پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾(الاعراف:7؍2) ’’یہ کتاب ہے جو آپ پر نازل کی گئی ہے، پس آپ کے دل میں کوئی تنگی نہیں آنی چاہیے۔‘‘
[95]﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوۡنَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا پس آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘ ان دونوں آیات کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن کریم کے بارے میں ) دو چیزوں سے منع کیا ہے۔۱۔ قرآن مجید میں شک کرنا اور اس کے بارے میں جھگڑنا۔۲۔ اور اس سے بھی شدید تر چیز اس کی تکذیب کرنا ہے، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی واضح آیات ہیں جن کو کسی لحاظ سے بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا اور تکذیب کا نتیجہ خسارہ ہے اور وہ ہے منافع کا بالکل معدوم ہونا اور یہ خسارہ دنیا و آخرت کے ثواب کے فوت ہونے اور دنیا و آخرت کے عذاب سے لاحق ہوتا ہے۔ کسی چیز سے روکنا دراصل اس کی ضد کا حکم دینا ہے۔ تب قرآن کی تکذیب سے منع کرنا درحقیقت قرآن کی تصدیق کامل، اس پر طمانیت قلب اور علم و عمل کے اعتبار سے اس کی طرف توجہ دینے کا نام ہے اور یوں بندۂ مومن نفع کمانے والوں میں شامل ہو جاتا ہے جو جلیل ترین مقاصد بہترین خواہشات اور کامل ترین مناقب کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس خسارے کی نفی ہو جاتی ہے۔