بے شک وہ لوگ کہ ثابت ہو چکا ہے ان پر حکم آپ کے رب کا، نہیں ایمان لائیں گے وہ (96) اور اگر چہ آجائیں ان کے پاس ساری نشانیاں ، یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ عذاب درد ناک (97)
[97,96]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ﴾ ’’جن لوگوں کے بارے میں آپ کے رب کا حکم قرار پاچکا ہے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن پر یہ بات صادق آئی کہ وہ گمراہ، بھٹکے ہوئے اور جہنمی ہیں تو یہ لابدی ہے کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں مقدر ہو چکا ہے اگر ان کے پاس ہر قسم کی نشانی اور معجزہ بھی آجائے، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ آیات و معجزات ان کی سرکشی اور گمراہی میں اضافہ ہی کرتے ہیں ۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلا کر، جب حق ان کے پاس پہلی مرتبہ آیا خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر، کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی اور اب وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس وقت حق یقین کے ساتھ معلوم ہو جائے گا کہ وہ اب تک جس راستے پر چلتے رہے ہیں وہ گمراہی کا راستہ ہے اور جو چیز رسول لے کر آئے ہیں وہ حق ہے مگر اس روز ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس روز ظالموں کی معذرت کسی کام نہ آئے گی اور ان کی کوئی معذرت قبول نہ ہوگی۔ آیات و معجزات صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتے ہیں جو دل رکھتے ہیں اور توجہ سے سنتے ہیں ۔