Tafsir As-Saadi
10:99 - 10:100

اور اگر چاہتا رب آپ کا تو ایمان لے آتے وہ لوگ جو زمین میں ہیں سب کے سب سارے ہی، کیا پس آپ مجبور کریں گے لوگوں کو یہاں تک کہ ہو جائیں وہ مومن؟ (99)اور نہیں ہے (ممکن) واسطے کسی نفس کے یہ کہ ایمان لائے وہ مگر ساتھ حکم اللہ کےاورکرتا ہے اللہ پلیدی (عذاب) اوپر ان لوگوں کے جو نہیں عقل رکھتے (100)

[99] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِي الۡاَرۡضِ كُلُّهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں رہنے والے سب کے سب ایمان لے آتے‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ایمان الہام کر دیتا اور ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے درست کر دیتا۔ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے بعض لوگ ایمان لائیں اور بعض لوگ کافر رہیں ۔ ﴿ اَفَاَنۡتَ تُكۡرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں ‘‘ یعنی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ یہ چیز غیر اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے۔
[100]﴿ وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور کسی سے نہیں ہو سکتا کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت اور اس کے قدری و شرعی حکم سے۔ پس مخلوق میں سے جو اس کے قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے تو ایمان اس کے پاس پھلتا پھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو توفیق سے نوازتا اور اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَيَجۡعَلُ الرِّجۡسَ ﴾ ’’اور ڈالتا ہے وہ گندگی‘‘ یعنی شر اور گمراہی ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ ’’ان لوگوں پر جو سوچتے نہیں ‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی اور اس کے نصائح و مواعظ پر کان نہیں دھرتے۔